نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بحرینی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال

کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کیا

پنجاب بھر میں بشمول لاہور گرجا گھروں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

ماری پور روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک

سی ڈی اے نے اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کے لئے نیا اقداماتی منصوبہ پیش کیا

پی سی ایم ای اے کا بین الاقوامی ہینڈلوم قالین نمائش کے لئے فنڈنگ ​​میں تاخیر پر اظہار تشویش

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کو ئٹہ(پی پی آ ئی) بلوچستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بارش سے کم از کم ایک خاتون جاں بحق ہو گئی ہیں جبکہ تین اضلاع میں کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ڈائریکٹر ریلیف عطا اللہ مینگل نے بتایا کہ خاتون کی موت ہرنائی کے علاقے میں بارش سے گھر کی چھت گرنے سے ہوئی۔انھوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش سے تین اضلاع میں سب سے زیادہ نقصان کھڑی فصلوں کو ہوا، جن میں سبی، کچھی اور آواران شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دو تین روز قبل ہونے والی بارش اور اس کے نتیجے میں سیلابی ریلوں سے انسانی جانوں کا ضیاع زیادہ ہوا تھا۔انھوں نے بتایا کے ضلع آواران میں سیلابی ریلے میں گاڑی بہہ جانے سے آٹھ افراد جبکہ ڑوب میں دو افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

لاہور(پی پی آ ئی)سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پر ویز الٰہی نے کہا ہے کہ الیکشن شیڈول منسوخ کروا کے شہبازشریف اور محسن نقوی نے آئین توڑا اور سپریم کورٹ کی توہین کی ہے،اسحاق ڈار، خواجہ آصف اور رانا ثنااللہ کی وزارتوں نے شہبازشریف اور محسن نقوی نے اپنی پولیس، آئی جی اور چیف سیکرٹری کے کہنے پر الیکشن کیلئے فنڈزاور عملہ فراہم کرنے سے انکار کیا۔پی ٹی آئی رہنما چوہدری پر ویز الٰہی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ الیکشن شیڈول منسوخ کرواکین لیگ نے پنجاب میں اپنی شکست تسلیم کرلی ہے،شہبازشریف اور محسن نقوی آرٹیکل6 کے مرتکب ہوئے ہیں،الیکشن کمیشن کاکام الیکشن کرانا ہے الیکشن روکنا نہیں، الیکشن کمیشن کے پاس الیکشن شیڈول منسوخ کرنے کاکوئی اختیار نہیں،الیکشن کمیشن نے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن کواپنے اس غیر آئینی فیصلے پر سپریم کورٹ میں منہ کی کھانی پڑے گی۔ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے بعد کوئی ادارہ الیکشن میں تعاون سے انکار نہیں کر سکتا۔چیف جسٹس واضح طو ر پر کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی بدنیتی سامنے آئی، تو سپریم کورٹ مداخلت کرے گی۔آئین کی اس خلاف ورزی کی اجازت نہ اعلیٰ عدلیہ دے گی اور نہ عوام اسے برداشت کریں گے۔