بدین میں پانی کی مصنوعی قلت کے باعث دھان کی زیر کاشت فصل شدید متاثر

غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں معمولی کمی ، اوپن مارکیٹ: ڈالر، یورو اور پاؤنڈ سستے ہوگئے

عالمی منڈی میں تیل سستا، حکومت بھی عوام کو فوری ریلیف دے: پاسبان

ڈی پی او جھنگ کا دورہ گڑھ مہاراجہ دربار حضرت سلطان باھوؒ

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر بطور ثالث دستخط کردئیے

چیئرمین ایس ای سی پی کا دورہ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ملک میں غیر منصافانہ نظام نہیں چلے گا: شہباز شریف سیاستدانوں کیخلاف آنکھیں بند کر کے کیسز بن جاتے ہیں، کتنے اعلیٰ جج کرپشن پر نکالے گئے؟ عمران خان کے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کے نتیجے میں ملک کو دیوالیہ ہونے کے نہج پر پہنچا دیا

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) وزیراعظم میاں شہباز شریف نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ ملک میں غیر منصافانہ نظام نہیں چلے گا۔ سیاستدانوں کے خلاف فوری کیسز بن جاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ آج تک کتنے اعلیٰ ججوں کو کرپشن کے باعث نکالا گیا۔
’میں آئین کا مقدمہ لے کر پیش ہوا ہوں، آئین کا سنگین مذاق بنایا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان کے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کے نتیجے میں ملک کو دیوالیہ ہونے کے نہج پر پہنچا دیا،’آئی ایم ایف قدم قدم پر ہم سے گارینٹیز لیتا ہے، آئی ایم ایف سے تمام شرائط مکمل کر لی گئی ہیں۔ گیارہ ماہ سے ہم دوستی ممالک کو راضی کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور امریکہ سے تعلق بہتر بنانے میں لگے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’پارلیمان کو ملک میں جاری معاملات کا فی الفور نوٹس لینا ہوگا۔ جس طرح ہم ہر فیصلے میں کابینہ سے مشاورت کرتے ہیں تو باقی تمام اداروں کو بھی اپنی کابینہ کے مشورے سے مل بیٹھ کر فیصلہ کرنے چاہیں۔ حال ہی میں آڈیو لیک سامنے آئی جس میں سپریم کورٹ کے ججز کے بارے میں باتیں کی گئیں۔ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے کہتا ہوں کہ آڈیو کا فرنزک کروایا جائے۔ اگر جھوٹی ہے تو مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے اگر سچ ہے تو سچ سامنے آنا چاہیے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’سیاستدان جیلوں میں جاتے ہیں، کتنے اعلیٰ جج کرپشن پر نکالے گئے؟ میں جاننا چاہتا ہوں۔ اور سیاستدانوں کے خلاف آنکھیں بند کر کے کیسز بن جاتے ہیں، یہ غیر عادلانہ اور غیر منصافانہ نظام نہیں چلے گا۔ارکان پارلیمان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم گائے بھینس کی طرح ہانکیں جائیں گے یا آئین پر عمل در آمد کریں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہمیں اس پر فیصلہ کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ ’عمران خان دہشت گردوں کو واپس لے کر آئے۔ جس کے بعد ملک میں دہشت گردی کی لہر پھیلی، ان کے کیا مقاصد تھے، اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔