پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

آئی ایم ایف سے نجات دلانے کے لیے حکومت کو فاریکس ایسوسی ایشن کی پیشکش 4 ارب ڈالرز گھروں میں پڑے ہیں،حاصل کرنے کے لیے حکومت شناخت کی پابندی اٹھا لے افغانستان سے تجارت روپے میں کیجائے،ایران سے مال کے بدلے مال کی اجازت دیجائے حکومت کو اگلے 2 سال کیلئے ماہانہ 1 ارب ڈالرز دے سکتے ہیں:قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ

اسلام آباد (پی پی آئی) فاریکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ میں بتایا کہ ہم نے 1998ء میں ایٹمی دھماکوں کے بعد ملک کو 10 ارب ڈالرز لے کر دیے۔پی پی آئی کے مطابق انہوں نے بتایا کہ اس وقت حکومت کو 40 کروڑ ڈالرز ماہانہ دے رہے ہیں، 4 ارب ڈالرز سالانہ عوام کو سفر اور تعلیمی اخراجات میں دیتے ہیں، موجود حکومت کو 4 ارب ڈالرز فراہم کیے ہیں۔ملک بوستان نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف قانون کے تحت 15 ہزار ڈالرز تک فروخت کرنے پر شناخت کی ضرورت نہیں ہے، اب تو 1 ڈالر کے لیے بھی بائیو میٹرک کروانی پڑتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حوالہ اور ہنڈی والے گھر تک سپلائی دیتے ہیں، برطانیہ اور دبئی نے حوالہ بینکنک کے لیے لائسنس جاری کیے ہیں۔فاریکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کے چارجز کو بہت محدود کر دیا ہے، بینکوں کو 1 ڈالر لانے پر 20 روپے اور ہمیں 1 روپیہ ملتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت لوگوں کے پاس 4 ارب ڈالرز گھروں میں پڑے ہیں، اس رقم کو حاصل کرنے کے لیے حکومت شناخت کی پابندی اٹھا لے، شناخت صرف 10 ہزار ڈالرز سے اوپر کی خرید و فروخت کرنے والوں سے کی جائے۔ملک بوستان نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں بہت اضافہ ہوا ہے، اس تجارت میں حوالہ استعمال ہو رہا ہے، پہلے روزانہ 1 کروڑ ڈالرز بینکوں میں جمع کرواتے تھے اب بہت کم جمع ہو رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے تجارت پاکستانی روپے میں کی جائے، افغانستان اور ایران سے مال کے بدلے مال کی تجارت کی اجازت دی جائے، ا?ئی ٹی کے فری لانسر اربوں ڈالرز لا سکتے ہیں۔