پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کا غیر قانونی نظربندیوں پر اظہار تشویش

سری نگر(پی پی آ ئی)بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے کہا کہ مودی حکومت اپنے سیاسی عقائد کی وجہ سے دانستہ طورپر کشمیری نظربندوں کی غیر قانونی نظربندی کو طول دے رہی ہے۔کشمیرمیڈیاکے مطابق حریت رہنما غلام محمد خان سوپوریاور محمد سلیم زرگر نے سرینگرمیں جاری بیان میں کہا کہ مودی کی ہندوتوا حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں اپنی جابرانہ پالیسیاں جاری رکھتے ہوئے5اگست 2019کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور اسکے بعد سے مقبوضہ علاقے میں ہزاروں شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ایڈووکیٹ شاہد الاسلام، ایازمحمد اکبر، پیر سیف اللہ،معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، مولوی بشیر احمد، مشتاق الاسلام، بلال صدیقی، انسانی حقوق کے محافظ خرم پرویز، محمد احسن اونتو،اور دیگرحریت رہنما اور کارکن بھارت اورمقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں مسلسل قید ہیں۔ حریت رہنماؤں نے کہا کہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ بیشتر نظربنوں کو انکے اہلخانہ سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔حریت قائدین نے کہا کہ بھارت نہ صرف غیر قانونی قید کو طول دے کرکشمیری نظربندوں کے حقوق سے متعلق جنیوا کنونشن کی دھجیاں اڑا رہا ہے بلکہ کشمیر میں بے گناہ شہریوں کی آواز دبانے اور آزادی کے ان کے عزم کو توڑنے کیلئے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور کشمیریوں کاماورائے عدالت قتل کر رہا ہے۔انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی نظربندیوں کا فوری نوٹس لیں اور غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوں کی رہائی کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔