جمعیت طلبہ عربیہ کا 54 واں یوم تاسیس کل ملک بھر میں منایا جائے گا

بنو قابل پروگرام کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والے معاونین کے اعزاز میں جماعت اسلامی کی تقریب پذیرائی

کراچی میں موبائل کامرس 2026 کانفرنس منعقد ،وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سائنس شریک

بلوچستان میں ‘ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026’ متعارف

خواتین کی سفارت کاری کے عالمی دن کے موقع پرصدر مملکت کا پیغام

پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا، کے صدر کی گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کشمیری صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنانے پر امریکی دانشوروں کی مودی حکومت پر تنقید

واشنگٹن(پی پی آئی)امریکہ میں مقیم دانشوروں اورانسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے کشمیری کارکنوں اور صحافیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کی شہری آزادیوں پر پابندیوں کو سامنے لانے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔کشمیر میڈیا کے مطابق امریکہ کی سانتا کلارا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر روہت چوپڑا نے ایک انٹرویو میں کشمیری صحافی عرفان معراج کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاری وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے تحت بھارت میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے خاتمے کا ایک اور اشارہ ہے۔انہوں نے کہاکہ تمام حکومتوں کی طرح جو انسانی حقوق کی قیمت پر اپنے اقتدار کو مستحکم کرنا چاہتی ہیں، مودی حکومت بھی خبروں کوکنٹرول کرنا چاہتی ہے اور ریاستی جبر اورانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی خبروں کو سنسر کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اگلے سال ہونے والے انتخابات کے پیش نظرمودی اپنے آپ کوایک مضبوط قوم پرست لیڈر کے طور پر پیش کرنے اور تنقید کے ہر ذریعے کو روکنے کے خواہشمند ہیں۔رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے ایشیا پیسیفک ڈیسک کے سربراہ ڈینیئل باسٹرڈ،یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی اسکالرانگانا چٹرجی نے جو طویل عرصے سے کشمیر کے انسانی حقوق کے مسائل پر کام کرہی ہیں، کہاکہ اصولی بیانات پر عرفان معراج کی گرفتاری افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ بعض کشمیری صحافیوں اور انسانی حقوق کے کاکنوں کودہشت گردی کا ایجنٹ قرار دینے کی بھارتی حکومت کی حکمت عملی آزادی اظہار پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں سنگین سیاسی تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹنگ کو روکنا چاہتی ہے۔