جمعیت طلبہ عربیہ کا 54 واں یوم تاسیس کل ملک بھر میں منایا جائے گا

بنو قابل پروگرام کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والے معاونین کے اعزاز میں جماعت اسلامی کی تقریب پذیرائی

کراچی میں موبائل کامرس 2026 کانفرنس منعقد ،وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سائنس شریک

بلوچستان میں ‘ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026’ متعارف

خواتین کی سفارت کاری کے عالمی دن کے موقع پرصدر مملکت کا پیغام

پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا، کے صدر کی گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عمران خان سے چھپ کر ملاقات کرنے والے احتیاط کریں: مرتضیٰ وہاب

کراچی(پی پی آ ئی)وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ عمران خان کے انٹرویو میں خطرناک انکشافات ہیں، بیان پر سوموٹو نوٹس ہونا چاہئے، سوال اٹھ رہے ہیں کہ فیصلے کس طرح ہورہے ہیں، سابق چیف جسٹس کا پورا کردار ایک سوالیہ نشان ہے،عمران خان پہلے سے کٹھ پتلی تھے، پہلے کسی اور کی انگلیوں پر ناچتا تھا، اب کسی اور کی انگلیوں پر ناچنا چاہتا ہے، عمران خان کے بیان پر سوموٹو نوٹس ہونا چاہیئے۔ کراچی میں مرتضیٰ وہاب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے کہا کہ عمران خان نے انٹرویو میں خطرناک انکشا فات کیے، ایوان صدر سازشوں کا گڑھ بن چکا تھا، ایوان صدر میں سابق جنرل کی سابق وزیراعظم سے ملاقات ہوئی، کہا گیا کہ سابق جنرل کے کہنے پر 2 حکومتیں گرائی گئیں۔شرجیل میمن نے کہا کہ عمران خان کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی میبنہ آڈیو لیک ہوئی ہے، ان کے تمام سوموٹو نوٹس پر سوالیہ نشان بن گیا ہے، یہ سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کا حکم دینے والے کون ہوتے ہیں، یہ سارے احکامات غیرآئینی اور غیرقانونی ہیں، ملک میں جوڈیشل کو لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے قانون مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عمران خان سے چھپ کر ملاقات کرنے والے احتیاط کریں، ملک میں ضمیر کے نہیں آئین و قانون کے مطابق فیصلے ہونے چاہئیں۔ آئین میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے، کیا عدالتوں کو آئین میں ترمیم کی اجازت ہے، کیا ملک کے تقدیر کے فیصلے عدالتیں کریں گی، طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں،عوام اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نظریہ ضرورت سے بہت نقصانات ہوئے ہیں، اسے دفن کرنا ہوگا، پارلیمان کا احتساب ہوسکتا ہے توعدلیہ کا کیوں نہیں، قانون بننے سے پہلے اس کی عملداری کو روک دیا جاتا ہے، بل کا نوٹیفکیشن نہیں ہوتا، اسے معطل کردیا جاتا ہے۔