اقوام متحدہ کے گلوبل انفارمیشن ارلی وارننگ سسٹم نے خبردار کردیا

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)پاکستان کو اس سال بھی شدید بارشوں اور سیلاب کے خطرات کا سامنا رہیگا۔ اقوام متحدہ کے گلوبل انفارمیشن ارلی وارننگ سسٹم نے خبردار کردیا۔گزشتہ سال کے بدترین سیلاب کے نتیجے میں 30 ارب ڈالر سے زائد نقصانات کا سامنا کرنے والی پاکستانی معیشت کے لیے نیا امتحان۔اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچرآرگنائزیشن کے گلوبل ارلی انفارمیشن وارننگ سسٹم نے خبردارکردیا۔پاکستان شدید بارشوں کے خطرات کی زد میں آنیوالے 20 ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔2023 میں مختلف ممالک میں ایل نینو سسٹم کی واپسی کی بھی پیشگوئی کی ہے۔رپورٹ کے مطابق جون میں پاکستان سمیت 20 ممالک میں شدید بارشوں کا خطرہ ہے،جس سے سیلاب اور غذائی قلت کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔2022 میں بھی شدید موسمی حالات کی وجہ سے 53 ممالک میں 22 کروڑ 20 لاکھ افراد کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔جون 2023 میں بھی زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہمسایہ ممالک افغانستان، ایران،تاجکستان، ترکمانستان اورترکیہ میں بھی شدید بارشوں کا خطرہ ہے۔ امریکہ، ارجنٹائن، آرمینیا،آزربائیجان، بھوٹان، عراق، کرغزستان،میکسیکو بھی فہرست میں شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2023 میں مختلف ملکوں میں ایل نینوسسٹم کی واپسی ہورہی ہے۔ جس کے تحت ان ملکوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔دوسری طرف آسٹریلیا سمیت 40 سے زیادہ ممالک میں خشک سالی یا ڈرائی ویدرکنڈیشنز کی پیش گوئی کی گئی ہے۔