کراچی ڈیفنس سوسائٹی میں نوجوان خاتون نے مبینہ طور پر گولی مار کر خودکشی کر لی

کوٹ غلام محمد میں 5 بچوں کی ماں کرنا کولہی نے رسہ گلے میں ڈالکر خود کشی کر لی

خطرناک مسلح مجرم ٹھٹھہ پولیس سے مقابلے میں گرفتار ،ساتھی فرار ،سیاحوں سے چھینے گئے قیمتی موبائل فون برآمد

اوکاڑہ میں المناک حادثہ ، ٹریکٹر ٹرالی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، 14 سالہ بچہ جاں بحق

وفاقی وزیر صحت کی وزیراعظم سے اہم ملاقات ، صحت کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت

ایس ای سی پی نے ”سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس” فریم ورک متعارف کرا دیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

’پاکستانی ریاست غیر مؤثر کیونکہ اشرافیہ اس میں خوش ہے:مفتاح اسمٰعیل

لندن(پی پی آئی)سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیلنے کہا کہ جو لوگ 50 سال پہلے پاکستان میں سب سے زیادہ امیر تھے اب بھی وہی متمول ہیں کیونکہ پاکستانی ریاست غیر مؤثر ہے اسلئے بھی کہ یہاں اشرافیہ خوش ہے ویسے بھی ہمارے پاس دنیا کا سب سے غیر مؤثر طرزِحکمرانی ہے‘۔انہوں نے یہاں میڈیا سے گفتگو کے دوران پاکستا نی اشرافیہ کے کاروبار، سیاست، عدلیہ، بیوروکریسی، فوج اور دیگر شعبوں میں ان کی نمائندگی اورملک کو درپیش چیلنجز اور ان بنیادی مسائل کا تذکرہ کہا اور کہا کہ یہ وہ عوامل ہیں جو ایک وسائل سے مالا مال ریاست کو معاشی طور پر مضبوط و مستحکم اسٹیٹ بننے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔پی پی آئی کے مطابقمفتاح اسمٰعیل نے ملک کے ایلیٹ اسکولوں اور ملک بھر کے باقی ماندہ میٹرک اور سرکاری اسکولوں کے درمیان وسیع فرق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے تقریباً تمام سینئر ججز اور عمران خان کے دور میں کابینہ کے نصف اراکین ایچی سن کالج سے تعلیم یافتہ تھے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی ایلیٹ اسکولوں میں دی جانے والی تعلیم کے معیار کے درمیان بہت زیادہ فرق کی وجہ سے، چاہے کوئی فرد انگریزی بولے یا نہ بولے رکاوٹ بن جاتا ہے۔انہوں نے سیاسی طبقے کے ڈھانچے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خاندان سیاست پر حاوی ہیں اور خاندان ایک رکاوٹ کی طرح ہیں، انہوں نے صنعتی شعبے پر اشرافیہ کی گرفت کی طرف بھی اشارہ کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ ’10 گروپ انڈسٹری کے 38 فیصد کو کنٹرول کرتے ہیں‘۔انہوں نے بیوروکریسی اور فوج کی جانب اشارہ کیا، جو ان کے بقول متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن آخر کار اعلیٰ افسران کی سطح پر اشرافیہ کی گرفت کے اسی کلچر کو برقرار رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فوجی افسران فوجی جوانوں سے بہت مختلف زندگی گزارتے ہیں۔