مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کا اجلاس ، انتخابی کامیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا

وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس، پاکستان ریلوے میں اسٹریٹجک اصلاحات کی منظوری

سندھ پولیس اور پراسیکیوشن کے درمیان قبل از ٹرائل ہم آہنگی کے حوالے سے اہم اجلاس ، تفصیلی غور و خوض

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ

صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر کے سالانہ عرس کی تیاریاں ، سیکیورٹی پلان تیار

ملکی گولڈ مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اور پنشن میں 15فیصد اضافے کی تجویز

اسلام آباد (پی پی آئی)آئندہ مالی بجٹ میں وزارت خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اور پنشن میں 15فیصد اضافے کی تجویز دی ہے لیکن اسحاق ڈار نے معاملہ وفاقی کابینہ کے فیصلہ تک موخر کر دیا۔پی پی آئی کے مطابق پہلی با رای او بی آئی پنشنرز کیلئے عبوری امداد کی سفارش بھی کی جارہی ہے لیکن اس پر حتمی فیصلہ بھی کابینہ ہی کرے گی بتایا گیاہے کہ بجٹ کا حجم 14600ارب جبکہ بجٹ خسارہ 00 78 ارب روپے ہو سکتا ہے جو وفاقی خسارہ رواں مالی سال کے متعینہ خسارے کے ہدف سے تقریباً تین چوتھائی زیادہ ہوگا۔اگلے مالی سال 2023-24 کے لیے وفاقی بجٹ خسارہ اخراجات اور آمدنی کے درمیان فرق مجموعی ملکی پیداوار کے تقریباً 7.4 فیصد کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔یہ کافی بڑا ہے لیکن اب بھی جی ڈی پی کا تقریباً 0.7% ہے جو جانے والے مالی سال کے نظرثانی شدہ خسارے سے کم ہے۔ بجٹ کے نصف سے زیادہ رقم سود کی ادائیگی کیلیے مختص رہے گی۔ذرائع نے بتایا کہ وزارت دفاع کی طرف سے مطلوبہ دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنے کے بعد، وفاقی حکومت بجٹ کا تقریباً 64 فیصد قرض کی فراہمی اور دفاع پر خرچ کر سکتی ہے۔وفاقی بنیادی خسارہ سود کی لاگت کی ادائیگی کے بعد شمار کیا جاتا ہے، جی ڈی پی کا 0.3% ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ اب بھی اس مالی سال کے تخمینہ جی ڈی پی کے بنیادی بجٹ کے 0.7 فیصد سے بہتر ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی کیش سرپلسز کی وجہ سے مجموعی پرائمری بجٹ کو تھوڑا سا مثبت دکھایا جا سکتا ہے۔