سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع

پشاور(پی پی آئی)خیبرپختونخوا کے مختلف محکموں میں مبینہ طورپر551 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔کے پی حکومت کے ماتحت 10 محکموں میں 1 ارب 70 کروڑ روپے کی غبن اور بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے، ان اداروں میں اربوں روپے کے غبن اورفراڈ کے دودرجن کیس سامنے آئے۔انوسٹی گیشن ٹیم نے صوبے کی آڈٹ رپورٹ 2022-23 حاصل کرلی۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق اٹھارہ مختلف کیسز میں 52 کروڑ کی مبینہ غبن اورمالی بدانتظامی سامنے آئی۔خیبرپختونخوا حکومت کے دعوؤں کے مطابق کے صحت اور تعلیم میں ریکارڈ ریفارمز کئے۔ آڈٹ رپورٹ نے ان دعوؤں کی مکمل نفی کی۔ محکمہ صحت میں 45 کروڑ کے غبن بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، جبکہ محکمہ تعلیم میں مجموعہ 11 کروڑ سے زائد کی غبن ریکارڈ ہوئی۔وزیراعلیٰ کے پی کے کے دفتر میں 1 کروڑ 20 لاکھ روپے کا فراڈ ہوا، جبکہ ایک کروڑ سے زائد کا فراڈ وزیراعلیٰ سیکرٹیریٹ میں ملازمین کو اعزازیہ دینے کی مد میں ہوا۔محکمہ داخلہ اور قبائلی امور میں 26 کروڑ سے زائد کی غبن، فراڈ اورمالی بدانتظامی کا انکشاف، محکمہ لوکل گورنمنٹ میں 19 کروڑ سے زائد روپے کا فراڈ اور غبن ہوئی، کھیل، ثقافت اور سیاحت میں 4 کروڑ کا غبن کا انکشاف، اسٹیبلشمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں 3 کروڑ سے زائد بدعنوانی اورغبن ہوئی۔ مواصلات کے محکمے میں 8 کروڑ سے زائد کی غبن اور بے ضابطگیاں ریکارڈ ہوئیں۔