روبوٹکس بینکنگ کسٹمر کے تجربے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار

انشورنس انڈسٹری کا بجٹ مذاکرات میں مالیاتی اصلاحات کے لیے زور

سندھ کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی امداد کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی

دارالحکومت میں وسیع سرچ آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں منشیات برآمد

پولیس چیف کی سنگین جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی ہدایت

اعلیٰ سطحی فلسطینی مذاکرات کے دوران پاکستان کا غزہ پر گہرے دکھ کا اظہار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

فوجی عدالتوں میں شہریوں پر مقدمے چلانے کیخلاف حکم امتناع کی استدعا مسترد، گرفتار شدگان کا ڈیٹا طلب

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) فو جی عدالتوں میں شہریوں پر مقدمے چلا نے کے خلاف سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور لطیف کھوسا کے درمیان مکالمہ ہوا۔ چیف جسٹس کی جانب سے کہا گیا کہ ’آپ کہتے ہیں ملٹری کورٹس کے خلاف اپیل کا حق نہیں ہوتا، آپ کہہ رے ہیں کہ ملٹری کورٹس کا فیصلہ پبلک نہیں ہوتا اس کی وجوہات واضح نہیں ہوتیں۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ’آرمی ایکٹ تو آرمڈ فورسز میں کام کرنے والوں کے متعلق ایکٹ ہے۔ کیا آپ نے اس ایکٹ کو چیلیج کیا؟اس بارے میں بات کرتے ہوئے جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ملزمان کو سیکشن 549 تھری کے تحت اے ٹی سی نے ملٹری حکام کے حوالے کیا، آرمی ایکٹ کے تحت سزا کم ہے اور عام قانون میں سزا زیادہ ہے۔جسٹس منیب اختر نے اس پر کہا کہ ’وزارت قانون کے ویب سائٹ پر549 کی سب سیکشن تھری ہے ہی نہیں۔لطیف کھوسہ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی ہے تاہم سپریم کورٹ نے فوری حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔چیف جسٹس کی جانب سے نو مئی کے بعد گرفتار ہونے والوں اور سویلین اور فوجی حراست میں افراد کی فہرست مانگ لی ہے۔اس کے ساتھ کیس کی مزید سماعت جمعہ کے روز ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔