ایس آئی ایف سی کی موثر سہولت کاری سے پاکستان میں صنعتی بحالی اور پیداواری شعبے میں نمایاں پیش رفت

ازبکستان کے سفیر کی وفاقی وزیر ریلوے سے ملاقات ، دوطرفہ تعاون پر تبادلۂ خیال

وفاقی دارالحکومت میں فول پروف سکیورٹی ،مختلف علاقوں میں گرینڈ کومبنگ سرچ آپریشن

فلپائن کے یومِ آزادی اور پاک-فلپائن سفارتی تعلقات کی سالگرہ پر استقبالیہ منعقد

کراچی، 16-جون-2026 (پی پی آئی): بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے کی تقسیم کو جانچ پڑتال کا سامنا ہے، جس پر تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ قومی وسائل کا غیر مؤثر استعمال ہے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے جنرل سیکرٹری اقبال ہاشمی کا آج ایک بیان میں کہنا تھا کہ یہ فنڈنگ غربت کی بنیادی وجوہات کو حل نہیں کرتی بلکہ انحصار کو فروغ دیتی ہے۔ پاکستان کو بے روزگاری، صنعتی جمود، اور معاشی سست روی جیسے اہم چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان مسائل کو نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی ناخوشی نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس تناظر میں، امدادی اقدامات کا توسیع کرنا ممکنہ طور پر بہترین حل نہیں ہو سکتا۔ ہاشمی مالی ترجیحات کی دوبارہ جانچ کی حمایت کرتے ہیں، حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فنڈز کو صنعتی ترقی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی حمایت، اور روزگار کی تخلیق میں لگائے۔ وہ زور دیتے ہیں کہ نوجوان، خیرات کے بجائے، باعزت روزگار اور اقتصادی خود کفالت کے خواہاں ہیں۔ نوجوانوں کو مہارتوں، سرمائے، اور کاروباری مواقع سے لیس کر کے، وہ اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکتے ہیں اور قومی معیشت میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ہاشمی پائیدار ترقی اور غربت میں کمی کے وعدہ کرنے والے شعبوں میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اگرچہ امدادی پروگرام مختصر مدتی راحت فراہم کرتے ہیں، اقتصادی خود مختاری کے راستے میں پیداواری صلاحیت اور خود انحصاری کا کلیدی کردار ہے۔ ترقی یافتہ قوموں نے صنعتی کاری اور روزگار کی تخلیق کے ذریعے خوشحالی حاصل کی ہے، نہ کہ مالی امداد پر انحصار کر کے۔

بی آئی ایس پی کیلئے 838 ارب روپے قومی وسائل کا غیر مؤثر استعمال ہے: پاسبان

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلکارتنے دلشان کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت مشکوک، حتمی فیصلہ 19مارچ کو ہوگا: سنتھ جے سوریا

کولمبو: سری لنکا کے جارح مزاج بیٹسمین تلکارتنے دلشن کی ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت مشکوک ہو گئی۔ سرلنکا کے چیف سلیکٹر سنتھ جے سوریا کا کہنا ہے کہ دلشن ورلڈ کپ میں شرکت کر نے والی ٹیم کے ساتھ بنگلہ دیش جائیں گے ، ڈاکٹروں کے مطابق 19مارچ تک دلشن فٹ ہو جائیں گے ، لیکن19مارچ کو ویسٹ انڈ یز کے خلاف وارم اپ میں غیر دستیابی کی صور ت میں سیلیکٹرز پر متبا دل کھلاڑی کے انتخاب کے لیے دباﺅ ہوگا۔تلکارتنے دلشن رواں سال20فروری کو بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوران انگوٹھے کی انجری کا شکار ہوگئے تھے ۔ سنتھ جے سوریا نے کہا کہ اگر دلشن ویسٹ انڈیز کے خلا ف وارم اپ میچ نہیں کھیل سکے تو میرے خیا ل میں وہ ورلڈ کپ سے باہر ہو جائیں گے ، اسی حوالے سے ہم نے ٹیم فزیو سے تفصیلی بات کی ہے ، ان کی شرکت کی حتمی تاریخ 19مارچ کو ہونے والا پریکٹس میچ ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ دلشن اس وقت باﺅلنگ اور فیلڈنگ کر رہے ہیں لیکن بیٹنگ کے دوران انھیں مشکل پیش آرہی ہے۔ سنتھ جے سوریا نے کہا کہ سیلکٹرز کے پاس دلشن کی جگہ متبا دل دوسرا آپشن نہیں تھا لیکن سری لنکا کے پاس موجو دہ اسکواڈ میں دلشن کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہترین کھلاڑی موجو د ہیں،مہیلا جے وردھنے نے 2012کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کامیاب اوپننگ کی تھی جبکہ حالیہ ایشیا کپ میںدلشن کی جگہ اوپنر کی حیثیت میں شامل لاہیرو تھیریمانے سب سے کامیاب بیٹسمین رہے ہیں۔ جے سوریا نے کہاکہ جب سے تھیریمانے اچھی فارم کا مظا ہرہ کر رہے ہیں ہمارے پاس دلشن کا متبادل ہے دوسری صورت میں ہمارے پاس سینیئر کھلاڑیوں میں بھی ایسی صلاحیت ہے کہ وہ اوپننگ کا مسئلہ حل کر دیں گے۔ ہمارے پاس دلشن کے متبادل کے لیے کچھ فیصلے ضرور ہوئے ہیں۔ جے سوریانے کہا کہ ہمارے پاس اچھے کھلاڑی موجو دہیںاور میں بحیثیت سیلیکٹرکھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی پر خوشی ہو تی ہے۔