کراچی (پی پی آئی)پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر سابق وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میر چنگیز جمالی نے کہا ہے کہ آنے والا دور پیپلز پارٹی کا ہے وفاق میں ہماری حکومت اور بلوچستان میں جیالا وزیراعلیٰ ہوگا ملک بھر کی طرح بلوچستان میں مقتدر قوتوں کے بغیر نا حکومت بن سکتی ہے اور نہ ہی مسائل حل کر سکتی ہے نیکر پہن کر آنے والے سیاست دان ہمارے گلے پڑے ہوئے ہیں باپ کی فکر انہیں ہو ہم سیاسی لوگ ہیں اورعوام کے مسائل سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے عوام کے پاس جائیں گئے معشیت کی مضبوطی اور صوبے کی تعمیر و ترقی کیلئے حکمت عملی کو تبدیل کر نا ہوگا پیپلز پارٹی نے اقتدار سے باہر ہونے کے باوجود بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے صوبے کی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے اور یہی فیڈریشن کی پارٹی ہے۔ پی پی آئی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر سینئر صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ 2سال قبل مجھے جب پارٹی کی صدارت ذمہ داری مجھے سونپی گئی تو مجھے نچلی سطح سے پارٹی کو مضبوط بنانے اور اوپر سے پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زردای نے مدد کرنے کا کہا تھا اور میرے خلاف مختلف حوالوں سے سازش اور باتیں ہوتی رہیں کہ چند دن کی ذمہ داری ہے بحیثیت جیالے کے ہم نے ہر سازش کو دیکھا ہے گزشتہ 25سالوں میں سیلاب سمیت دیگر قدرتی آفات اور دیگر مسائل کو قریب سے دیکھا ہے میرے خاندان اور میں نے ہر اونچ نیچ کا سامنا کیا ہے اور علاقے کی تعمیر و ترقی اور پارٹی کی مضبوطی کیلئے اپنا کردار نبھایا ہے ہم نے ہر محاذ پر دلیری اور جرات کے ساتھ ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کیا ہے اب پارٹی میں جو بھی سیاسی شخصیات قبائلی عمائیدین اور نمائیدین شامل ہوئے ہیں اس سے ہمارا کوٹہ پورا ہو چکا ہے میاں نواز شیریف میاں شہباز شریف اور عمران خان نے بلوچستان کیلئے کچھ نہیں کیا اور نہ ہی وہ کچھ جانتے ہیں آصف علی زرداری بلوچستان کیلئے ہر لحاظ سے موضوں اور چیزوں کو سمجھتے اور حل کرنے کے خواہش مند ہیں پیپلز پارٹی نے پہلے بھی اقتدار میں آکر 18ویں ترمیم کی منظوری اختیارات کی صوبوں کو منتقلی این ایف سی ایوارڈ بلوچستان پیکیج کے علاوہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے اوور ڈرافٹ کا خاتمہ یقینی بنانے کے علاوہ نوجوانوں کو روز گار کی فراہمی یقنی بنائی تعلیم صحت انفرا اسٹیکچر کی بہتری ہماری اولین ترجیح ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی طرح بلوچستان میں مقتدر قوتوں کے بغیر حکومت بنانا اور چلا کر مسائل حل کر نا نا ممکن ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ انکی سپورٹ کے بغیر کوئی حکومت نہیں بن سکتی اور نہ ہی چل سکتی انہوں نے کہا کہ میں 35سال سے سیاست کر رہا ہوں اس وقت قدآور شخصیات سیاست کر تی تھیں آج نیکر پہننے والے سیاست دان ہمارے گلے پڑے ہوئے ہیں ہم سیاسی انداز میں عوام کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد تمام جماعتوں سے بات چیت ہوسکتی ہے باپ پارٹی کے اپنے مسائل ہیں 2008میں بھی ہماری مخلوق حکومت تھی جس میں تمام مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کیا اور وفاق کی جانب سے صوبے کیلئے مختلف پیکیجز منظور کروائے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبے کی تعمیر و ترقی پی ایس ڈی پی اور معیشت کی بہتری کیلئے حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی ٹرانسفر پوسٹینگ اور بھرتیوں کے عمل کو شفاف بنانا ہوگا کرپشن ہر شعبے اور چیز میں سرایت کر چکی ہے موسمی پرندے انتخابات میں ہوا کا رخ دیکھ کر جماعتوں میں جاتے ہیں سیاست میں دروازے بند نہیں کیئے جا سکتے اور بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے مجھے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی ہے اس حوالے سے میں تیاری کر رہا ہوں
Next Post
بلدیاتی نظام بحال،کراچی میں فنڈز کے عدم اجراء سے مسائل برقرار
Wed Aug 2 , 2023
کراچی (پی پی آئی)کراچی میں بلدیاتی نظام بحال ہونے کے باوجود ٹاؤ ن اور یونین کمیٹیوں کو فنڈز کا اجرا نہ ہونے کی وجہ سے عوامی مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔شہری بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اپنی متعلقہ یونین کمیٹیوں سے رابطہ کرتے ہیں تو منتخب نمائندے اپنی […]
