نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بحرینی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال

کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کیا

پنجاب بھر میں بشمول لاہور گرجا گھروں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

ماری پور روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک

سی ڈی اے نے اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کے لئے نیا اقداماتی منصوبہ پیش کیا

پی سی ایم ای اے کا بین الاقوامی ہینڈلوم قالین نمائش کے لئے فنڈنگ ​​میں تاخیر پر اظہار تشویش

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بڑے پردے کی بڑی اداکارہ شمیم آرا کو مداحوں سے بچھڑے 7 برس بیت گئے

کراچی (پی پی آئی)بڑے پردے کی بڑی اداکارہ اور کامیاب ہدایت کارہ شمیم آرا کو مداحوں سے بچھڑے 7 برس بیت گئے۔ اداکارہ شمیم آرا 22 مارچ 1938کو بھارتی شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں، قیام پاکستان کے بعد والدین کے ہمراہ کراچی میں سکونت اختیارکی۔شمیم آرا نے نجم نقوی کی فلم ”کنواری بیوہ“ سے اداکاری کا سفر شروع کیا، جس میں انہیں خاص کامیابی تو نہیں ملی لیکن فلم بینوں کو ان کا معصومانہ اندازِ بیاں بہت پسند آیا، تاہم 1960 میں فلم”سہیلی“ نے ان کا نصیب کھول دیا۔1962میں فلم ”قیدی“ میں فیض کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ“ شمیم آرا پر فلمائی گئی، یہ فلم سپر ہٹ رہی اور اداکارہ کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا، اسی سال ان کی فلمیں آنچل، محبوب، میرا کیا قصور اور انقلاب بھی کامیاب ٹھہریں۔1963میں دلہن، اِک تیرا سہارا، غزالہ، کالا پانی، سازش اور تانگے والا جیسی فلموں نے دھوم مچا دی۔شمیم آرا کو پاکستان کی پہلی رنگین فلم ”نائلہ“ میں اداکاری کا اعزاز بھی حاصل ہے۔انہوں نے فلم نگری میں بطور ہدایت کارہ بھی قسمت آزمائی، 1970کی دہائی میں ہدایت کاری کا آغاز کیا اور پلے بوائے، مس استنبول، منڈا بگڑا جائے، ہاتھی میرے ساتھی جیسی سپرہٹ فلمیں دیں۔2011میں دماغ کی شریان پھٹ جانے کے باعث ان کا آپریشن کیا گیا، بعد ازاں لندن میں زیر علاج رہیں اور 5 اگست 2016 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔پاکستان فلم انڈسٹری ان کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے، شمیم آرا کو چار بار نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔