سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

انتخابی گہما گہمی کا فقدان،سیاسی جماعتوں کی معنی خیز خموشی،نواز شریف کی واپسی موخر

کراچی (پی پی آئی)پاکستان میں منتخب قومی اسمبلی اپنی پانچ سال کی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہو چکی ہے۔ اب نئی اسمبلی کے انتخاب کے لیے نئے الیکشنز کا انتظار ہو رہا ہے۔عام طور پر قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد اگلے الیکشن کی گہما گہمی ہوتی ہے لیکن اس بار بالکل ہی نہیں۔سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ  لاہور اورکراچی جو سیاسی سرگرمیوں کے گڑھ مانے جاتے ہیں وہاں بھی سکوت ہے۔ کسی سیاسی پارٹی کا دفتر آباد دکھائی نہیں دیتا۔۔ اس ساری صورت حال سے ایک سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا ملک عام انتخابات واقعی کسی سیاسی جماعت کی ترجیح نہیں رہے؟ اور کیا الیکشن ہو بھی رہے ہیں یا نہیں؟ کہاجارہا ہے کہ الیکشن اگلے سال ہوں گے اور سیاسی جماعتوں کی خاموشی کا مطلب ہے کہ اندرونی طور پر ان کی مقتدرہ سے مفاہمت  ہوچکی ہے۔‘ ملک میں کسی بھی سیاسی جماعت نے ابھی عوامی رابطہ مہم شروع نہیں کی ہے۔۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ جو اس وقت ملک کی معاشی صورت حال ہے، خاص طور پر بجلی کے بلوں نے لوگوں کو متاثر کیا ہے اس سے بھی سیاسی معاملات ماند پڑے ہیں۔ پاکستان میں انتخابات اور جمہوری عمل پر نظر رکھنے والے ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ’اس وقت فیصلہ ساز چاہے وہ سیاسی ہوں یا اسٹیبلشمنٹ ان کے سامنے ملکی معیشت کی صورت حال ہے۔ یہ بات درست ہے کہ قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد کبھی بھی پاکستان میں اتنا سیاسی سناٹا نہیں دیکھا گیا۔ دوسری طرف  مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے جو ستمبر کے مہینے میں وطن واپس آنے کا ارادہ رکھتے تھے اب اسے بھی ملتوی کر دیا  ہے۔