اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

خیبر پختونخوا میں ژگ کی قبائلی رسم، 4 ہوائی فائر اور خاتون شادی کی پابند

پشاور(پی پی آئی)خیبر پختونخوا میں آج بھی ژگ نامی ایک ایسی قانوناً ممنوعہ قبائلی رسم پر عمل درآمد کیا جاتا ہے، جس میں کوئی لڑکا کسی لڑکی کے گھر کے باہر چار فائر کر دے تو وہ اس لڑکی سے شادی کے لیے دعوے دار بن جاتا ہے۔اس رسم کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ڑگ پر عمل کرتے ہوئے کوئی لڑکا جب کسی لڑکی کے گھر کے باہر چار گولیاں فائر کر دے تو پھر کوئی دوسرا مرد اس لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا۔ پی پی آئی کے مطابق  اس سارے معاملے میں شادی سے متعلق لڑکی کی اپنی خواہشات کو قطعاً کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔پشاور میں خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی نے جنوری 2013 میں ایک قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت ژگ کے مرتکب کسی بھی فرد کو تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔ اس قانون کی موجودگی کے باوجود خیبر پختونخوا کے زیادہ تر قبائلی رسم و رواج والے اضلاع میں آج  بھی ژگ کی مثالیں دیکھنے میں آتی ہیں۔ پی پی آئی کے مطابق ”پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کئی طرح کی  مزید بہت سی غیر انسانی رسوم و روایات ہیں۔ مثلاً لڑکیوں کو غلاموں کے طرح بیچا بھی جاتا ہے۔ پھر گیارہ بارہ سال تک کی عمر کی بچیوں کی شادیاں چالیس پچاس سال یا اس سے بھی زیادہ عمر کے مردوں سے کر دی جاتی ہیں اور ان بچیوں سے پوچھا تک نہیں جاتا۔