سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

خیبر پختونخوا میں ژگ کی قبائلی رسم، 4 ہوائی فائر اور خاتون شادی کی پابند

پشاور(پی پی آئی)خیبر پختونخوا میں آج بھی ژگ نامی ایک ایسی قانوناً ممنوعہ قبائلی رسم پر عمل درآمد کیا جاتا ہے، جس میں کوئی لڑکا کسی لڑکی کے گھر کے باہر چار فائر کر دے تو وہ اس لڑکی سے شادی کے لیے دعوے دار بن جاتا ہے۔اس رسم کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ڑگ پر عمل کرتے ہوئے کوئی لڑکا جب کسی لڑکی کے گھر کے باہر چار گولیاں فائر کر دے تو پھر کوئی دوسرا مرد اس لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا۔ پی پی آئی کے مطابق  اس سارے معاملے میں شادی سے متعلق لڑکی کی اپنی خواہشات کو قطعاً کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔پشاور میں خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی نے جنوری 2013 میں ایک قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت ژگ کے مرتکب کسی بھی فرد کو تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔ اس قانون کی موجودگی کے باوجود خیبر پختونخوا کے زیادہ تر قبائلی رسم و رواج والے اضلاع میں آج  بھی ژگ کی مثالیں دیکھنے میں آتی ہیں۔ پی پی آئی کے مطابق ”پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کئی طرح کی  مزید بہت سی غیر انسانی رسوم و روایات ہیں۔ مثلاً لڑکیوں کو غلاموں کے طرح بیچا بھی جاتا ہے۔ پھر گیارہ بارہ سال تک کی عمر کی بچیوں کی شادیاں چالیس پچاس سال یا اس سے بھی زیادہ عمر کے مردوں سے کر دی جاتی ہیں اور ان بچیوں سے پوچھا تک نہیں جاتا۔