شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سپریم کورٹ کا وقت ضائع کرنے پرانکم ٹیکس کمشنر کو 10ہزار روپے جرمانہ

 اسلام آباد (پی پی آئی)سپریم کورٹ نے انکم ٹیکس کمشنر کو عدالت کا وقت ضائع کرنے پر 10ہزار روپے جرمانہ کردیا، عدالت نے کیس کے حکمنامے میں اہم آبزرویشنز بھی دیں۔پی پی آئی کے مطابق سپریم کورٹ میں انکم ٹیکس کمشنر کے ٹیکس  کی تشخیص کے اختیار سے متعلق نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی، دوران سماعت ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریونیو پشاور سہیل احمد عدالت میں پیش ہوئے۔وکیل نے کہاکہ کمشنر ان لینڈریونیو پشاور نے ٹیکس کی تشخیص کے اختیارات ڈپٹی کمشنر کو دیئے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ کمشنر ان لینڈ ریونیو پشاور نے اپنے تمام اختیارات ڈپٹی کمشنر کو کیسے منتقل کردیئے؟انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 122کے تحت کمشنر اپنے اختیارات کسی کو دینے کا مجاز نہیں،اختیارات کی منتقلی کا گزٹ نوٹیفکیشن کہاں ہے؟وکیل ایف بی آر نے کہاکہ اختیارات منتقلی آرڈر ہوا تھا لیکن اس کو پبلش نہیں کیاگیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ایف بی آر اپنے آرڈر چھپا کر کیوں رکھتا ہے؟ایف بی آر کیا آرڈر کی اشاعت اس لئے نہیں کرتا کہ مخصوص کیسز میں استعمال کر سکے؟یہ کیس عدالت کا وقت ضائع کرنے کی کلاسک مثال ہے،سپریم کورٹ نے 2022میں فیصلہ دیا کہ کمشنر صرف ٹیکس کا تعین کر سکتا ہے،سپریم کورٹ نے 2022میں فیصلہ دیا کہ کمشنر اختیارات منتقل نہیں کر سکتا،جب مقننہ قانون سازی کردے تو اس پر عمل کرنا لازم ہوتا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ عدالت اور ہم سب کا کام پارلیمنٹ کے بنائے قانون پر عمل کرنا ہے،سپریم کورٹ کے حکم نامے کی کاپی کمشنر ایف بی آر کو ارسال کی جائے، حکم نامہ ایف بی آر کے تمام ڈائریکٹرز اور حکام کو بھی ارسال کیا جائے۔