نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بحرینی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال

کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کیا

پنجاب بھر میں بشمول لاہور گرجا گھروں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

ماری پور روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک

سی ڈی اے نے اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کے لئے نیا اقداماتی منصوبہ پیش کیا

پی سی ایم ای اے کا بین الاقوامی ہینڈلوم قالین نمائش کے لئے فنڈنگ ​​میں تاخیر پر اظہار تشویش

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے زرعی شعبے کو متنوع بنانا انتہائی ضروری ہے، شہزاد علی ملک

اسلام آباد(پی پی آئی)پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے کہا ہے کہ ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز نے یہ بات عیاں کر دی ہے کہ خوراک کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے زرعی شعبے کو متنوع بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اتوار کو یہاں ترقی پسند کسانوں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے اطراف کی دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور لوگوں کی بدلتی ہوئی ضروریات زراعت کے منظر نامے کو نئی شکل دے رہی ہیں۔ غیر متوقع موسمی اثرات اور قدرتی وسائل میں کمی کے باعث زرعی طریقوں میں جدت کو اپنانا ضروری ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو متنوع بناکر اور فصلوں کی مختلف اقسام کاشت کر کے ہم موسمیاتی تبدیلیوں اور کیڑے مکوڑوں سے لاحق خطرات کو کم کر سکتے ہیں۔مزید برآں اس سے زمین کی زرخیزی کو بڑھانے، کیمیائی کھادوں پر انحصار کو کم کرنے اور حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے۔ معاشی ترقی کی نئی راہیں کھلتی ہیں اور کسانوں کو مخصوص منڈیوں تک رسائی ملتی ہے اور ان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ شہزاد علی ملک(ستارہ امتیاز)نے کہا کہ تحقیق و ترقی کے فروغ اور مناسب فصلوں کے بارے میں آگاہی کیلئے کسانوں، محققین اور پالیسی سازوں کے درمیان تعاون و ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔ جدت اور تنوع کو فروغ دے کر ہم اپنے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک لچکدار اور پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنا سکتے ہیں، قدرتی وسائل کو محفوظ رکھ سکتے ہیں اور دیہی آبادی کی ترقی و خوشحالی کی راہیں کھول سکتے ہیں۔