متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عالمی بینک نے پاکستان کو درپیش 6 بڑے مسائل کی نشاندہی کر دی، ممکنہ اصلاحات پر مبنی رپورٹ جاری

 اسلام آباد (پی پی آئی؎)عالمی بینک نے پاکستان کو درپیش 6 بڑے مسائل کی نشاندہی کر دی،رپورٹ کے مطابق پالیسیوں میں عدم تسلسل کی وجہ سے سرمایہ کاری اور برآمدات کا فقدان ہے جبکہ پاکستان کا زرعی شعبہ غیر پیداواری اور جمود کا شکار ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ہیومن کیپٹل کے بحران کا سامنا ہے، دستیاب انسانی وسائل کا کم استعمال پیداوار اور ترقی کو متاثر کر رہا ہے، پاکستان میں 5 سال سے کم عمر 40 فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں جبکہ دنیا میں سب سے زیادہ 2 کروڑ سے زیادہ بچے سکول سے باہر ہیں۔ پی پی آئی کے مطابق ملک میں 10 سال سے کم عمر کے 79 فیصد بچے پڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔عالمی بینک کے مطابق پاکستان کو بلند مالی خسارے کا سامنا ہے، مالی سال 2022 کے اختتام تک مالی خسارہ 22 سال کی بلند ترین شرح 7.9 فیصد تک پہنچ گیا اور پاکستان کے ذمہ قرضے مقررہ قانونی حد سے زیادہ 78 فیصد کی بلند شرح پر ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پالیسیوں میں عدم تسلسل کی وجہ سے سرمایہ کاری اور برآمدات کا فقدان ہے، پاکستان میں زرعی شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ 23 فیصد ہے، زرعی شعبہ 40 فیصد لیبر فورس کو روزگار فراہم کرتا ہے۔عالمی بینک کے مطابق توانائی کا شعبہ ناقابل انحصار اور معیشت پر بھاری ہے، توانائی شعبے میں گردشی قرضہ مالی مشکلات پیدا کر رہا ہے، پاکستان کا سرکاری شعبہ غیر مؤثر ہے۔ پالیسی فیصلوں کا محور ذاتی مفادات ہیں۔