سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات سنگین خطرہ ہیں:پاسبان

وزیراعظم سے مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کی ملاقات

گورنرسندھ کی اسپیکرقومی اسمبلی ،جرمنی کی سفیر اور چیئرمین سینیٹ سے ملاقاتیں

کھورواہ میں جھگڑے کے دوران خاتون ہلاک ،، 2 مرکزی ملزمان گرفتار

نواز شریف کی زیر صدارت ن لیگ کا اعلیٰ سطحی اجلاس ، آزاد کشمیر کی صورت حال پر تفصیلی غور

اوکاڑہ ،لالا زار کالونی ویں کی ٹکر سے عمر رسیدہ خاتون جاں بحق ،بیٹا زخمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ایون فیلڈ کیس میں بریت، نواز شریف کے ’لاڈلہ‘ ہونے میں کوئی شک نہیں رہا؟ پرویز الہٰی

لاہور(پی پی آئی)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی صدر چوہدری پرویز الہٰی نے نوازشریف کی ایون فیلڈ کیس میں بریت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے بعد بھی کیا ان کے لاڈلے ہونے میں کوئی شک باقی رہ گیا ہے؟چوہدری پرویز الہٰی نے ان خیالات کا اظہار لاہور کی خصوصی عدالت میں اپنے اور ان کے صاحبزادے سابق وفاقی وزیر مونس الہٰی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے لیے پیشی پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔چوہدری پرویز الہٰی نے مسلم لیگ کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی فوری بریت کے بعد بھی ان کے لاڈلے ہونے میں کوئی شک باقی رہ گیا ہے؟ لاڈلے نواز شریف اور شہباز شریف عوامی عدالت میں اپنے کرتوتوں کا حساب دینے کے لیے تیار رہیں، ہیرا پھیری کے چیمپئن شریف برادران اللہ اور عوام کی عدالت سے کیسے بچیں گے، لاڈلے نواز شریف اور شہباز شریف ایسا تاثر پیدا کر رہے ہیں جیسے یہ چار بار عوام کو دھوکا دینے کے بعد پھر آجائیں گے۔چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ اس بار قوم انہیں الیکشن میں آٹے دال کا بھاؤ یاد کروا دیں گے، مہنگائی کے شہنشاہ شہبازشریف کو الیکشن میں لگ پتا جائے گا، یہ جو بھی ہتھکنڈے استعمال کر لیں عوامی غیض و غضب سے نہیں بچ سکیں گے، وہ دن دور نہیں جب عوام ان شا اللہ ان لاڈلوں کو ووٹ کی پرچی کے ذریعے باہر نکالیں گے اور یہ منہ چھپاتے پھریں گے، (ن) لیگ ہر بار عوام کو گمراہ کر کے اقتدار حاصل کرتی ہے، اب ان لاڈلوں کو چاہیے کہ عوام کی جان چھوڑ دیں۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں اپنے کیس ختم کروا کر بھی سرخرو نہیں ہو سکتے، عوام کو جواب دینا ہوگا، مرکزی صدر پی ٹی آئی نے کہا کہ پنجاب کا خزانہ سیاسی عیاشیوں پر اڑانے والے نگران بچوں کے لیے قرانی سپارے نہیں چھاپ رہے، اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت نے بارہویں جماعت تک ناظرہ قرآن کی تعلیم لازمی قرار دی تھی، پرائمری تک بچوں کو مفت سپارے دیے گئے تھے، یہ سپارے نہایت اعلیٰ کاغذ پر نفیس طور پر شائع کیے گئے تھے۔