کراچی(پی پی آئی) ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے کہا ہے کہ ہم نے چار ماہ کا وقت دیا ہے،انشاء اللہ کے ایم سی کے ریونیو میں اضافہ ہوگا، جماعت اسلامی کے دوستوں سے کہا ہے مل کر شہر کی خدمت کریں، انہیں صرف کے الیکٹرک کی جانب سے میونسپل یوٹیلیٹی ٹیکس جمع کرنے پر اعتراض ہے، تمام مسائل کا باہمی بات چیت کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش جاری رکھیں گے، یہ بات انہوں نے پیر کے روز سٹی کونسل کے اجلاس کے بعد صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر سٹی کونسل میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر نجمی عالم، سٹی کونسل کے رکن جمن دروان، پیپلزپارٹی کے رہنما کرم اللہ وقاصی اور دیگر بھی موجود تھے، سٹی کونسل میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر نجمی عالم نے کہا کہ ہم اتفاق رائے سے سٹی کونسل کا اجلاس چلانا چاہتے ہیں ہم نے کے ایم سی کی آمدنی بڑھانے کے لئے کونسل میں قردار داد پیش کی، انہوں نے کہا کہ بعض لوگ پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کرنے آئے تھے، ان کا مقصد اجلاس ڈسٹرب کرنا تھا، کے ایم سی کی آمدنی بڑھانے کی قرارداد تھی جس پر اعتراض کیا گیا، ہم نے قانون کے مطابق اس کا جواب دیا، اجلاس کچھ وقت اچھا بھی چلا، مارکیٹ ریٹس پر بات ہوئی جس پر سروے کا کہا کہ سروے کروالیں، اگلے اجلاس میں اس سے زیادہ جماعت اسلامی مثبت ہوجائے گی، ہم اس شہر کی ترقی کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر کام کرنے کی دعوت دیتے ہیں، ایم یو سی ٹی ٹیکس مصطفی کمال اور وسیم اختر کے دور میں بھی لیا جاتا تھا، یہ ٹیکس شہر کی بہتری کے لئے عائد کیا گیا ہے، کے الیکٹرک کے سب سے زیادہ کسٹمر ہیں اور اس کے ذریعے بلوں کی وصولی کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
