پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پی پی سنجیدگی کے ساتھ پاکستان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آگے کا راستہ بتا رہی ہے،میئر کراچی

کراچی (پی پی آئی)  میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو سنجیدگی کے ساتھ پاکستان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آگے کا راستہ بتا رہی ہے، 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں زرداری صاحب اور بلاول بھٹو صاحب نے بھٹو شہید کے فلسفے سے تجدید عہد وفا کے موقع پر آئندہ انتخابات سے قبل دس نکاتی ایجنڈا پیش کیا، پاکستان پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا تو اس پر عملدرآمد کرکے دکھائیں گے، ملک کے 25 کروڑ عوام کو بھوک، افلاس، غربت، بے روزگاری اور لا قانونیت سے نجات دلانا ہمارا مقصد ہے، یہ ملک اشرافیہ کا نہیں ہے، 99 فیصد عوام کا ملک کے پیسے پر حق ہے، گزشتہ پچاس سال سے کہہ رہے ہیں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں،ہمارے افکار لوگوں کو قائل کررہے ہیں، پیپلز پارٹی کا فلسفہ اور اس کی قیادت کرشماتی ہے، عوام اب پروپیگنڈے کے سحر سے نکل چکے ہیں وہ خدمت اور ترقی کے ایجنڈے پر پاکستان پیپلز پارٹی کا انتخاب کریں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز فریئر ہال کے سبزہ زار پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر میئر کراچی کے نمائندہ برائے سیاسی امور کرم اللہ وقاصی، سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد اور دیگر بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ الیکشن چند ہفتے دور ہے، ہر سیاسی جماعت اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کررہی ہے لیکن عوامی مسائل کے حل کی حکمت عملی دینے کے بجائے ہر جماعت بس لیڈر کی تصویریں لگارہی ہے پیپلز پارٹی نے اس کے برعکس ماضی کی ہی نہیں بلکہ مستقبل کی بات بھی کی ہے اور بتایا ہے کہ مسائل کس طرح حل ہونگے، عوام شاہد ہیں کہ ماضی میں ہم نے جو وعدے کئے انہیں وفا کرکے دکھایا، جس سے لوگوں میں ہمارا اعتبار بڑھا، انہوں نے پیپلز پارٹی کے دس نکاتی منشور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ تنخواہ دار طبقہ مشکلات میں ہے جس کی وجہ مہنگائی ہے، بلاول صاحب نے پانچ سال میں تنخواہوں کو دگنا کرنے کا کہا، ماضی میں بھی ہم نے تنخواہوں میں ڈیڑھ سو فیصد اضافہ کیا، حالیہ سیلاب کے بعد سندھ کے اضلاع میں جو تباہ کاری ہوئی تو پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہی متاثرین کی مدد کی 21 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ دیا اور اب 30 لاکھ گھر بنائیں گے، خان صاحب نے جو گھروں اور نوکریوں کا دعویٰ کیا وہ محض دعویٰ ہی رہا، ہاری اور کسان کو 300 یونٹ بجلی مفت فراہم کریں گے،سیلاب کے دوران بین الاقوامی سطح پر بلاول بھٹو نے گلوبل وارمنگ پرآوازاٹھائی، پہلی بار دنیا کے بڑے ملکوں نے ماحولیاتی تبدیلی کا فنڈ قائمُ کرنے کا فیصلہ کیا اور متاثرہ ملکوں کو رقم ملنا شروع ہوئی، اسلام کوٹ میں تھر کول کے ذریعے پہلا پاور پروجیکٹ سندھ حکومت نے مکمل کیا اورتمام گھروں کو 100 یونٹ مفت بجلی فراہم کی، اقتدار ملا تو باقی اضلاع میں ونڈ اور سولر پاور کے ذریعے 300 یونٹ مفت بجلی کسانوں کو فراہم کریں گے، ہم نے کراچی میں اس پر عملدرآمد شروع کردیا ہے، کڈنی ہل میں 100 کلو واٹ کا پہلا میونسپل سولر پارک بنادیا ہے، جب مئیر، وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم ہمارا ہوگا تو تینوں سطحوں پر ہموار طریقے سے کام کریں گے، میئر کراچی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے غریب آدمی کو انکم سپورٹ پروگرام دیا، قانون سازی کی گئی تو لوگوں نے باتیں کیں، ہم نے شفاف نظام بنایا اور غریب کو سبسڈی فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے، ہنر سکھانے کے لیے سہولیات فراہم کیں، سوشل پروٹیکشن پروگرام مزید بہتر کیا جائے تاکہ عوام کو مزیدریلیف مل سکے، جس کے ذریعے بلاول بھٹو کا وژن روٹی کپڑا اور مکان پر عملدرآمدممکن ہوگا، اشرافیہ کا پیپلز پارٹی سے شکوہ ہی یہی ہے، ہم نے ہوم ورک کیا ہے،اشرافیہ کو 1500 ارب روپے ملتے ہیں، یہ پیسہ ضرورت مند کو ملنا چاہئے، ٹارگیٹڈ سبسڈی کے ذریعے اس رقم سے اسکول، اسپتال بنیں اور مستحق نوجوانوں کو اسکالر شپ ملے، ایک فیصداشرافیہ ہے، بیس سال میں اخراجات میں اضافہ ہوا لیکن آمدنی نہیں بڑھی، ایف بی آر میں اصلاحات کے ذریعے اسے ممکن بنائیں گے، خدمات پر سیلز ٹیکس صوبائی معاملہ تھا، مشرف دور میں ایف بی آر اس پر قابض ہوگئی، اٹھارویں ترمیم میں واضح کیا کہ یہ ٹیکس وفاق نہیں صوبہ لے گا، اس سے قبل 16 ارب روپے وفاق نے ٹیکس جمع کیا تھا، جسے بڑھا کر ہم نے 25 ارب روپے تک پہنچایا اور آج گیارہ سال گزرجانے کے بعد 180 ارب روپے تک پہنچ گیا، عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے ہم ٹیکس کلیکشن کا نظام بہتر کریں گے تاکہ ریاست کی آمدنی میں اضافہ ہوسکے، ہم چاہیں گے کہ اس کے ساتھ اشیاء پر سیلز ٹیکس بھی اکھٹا کریں، انہوں نے کہا کہ آج ہر جگہ جناح اسپتال کے سائبر نائف، این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی یو ٹی کی بات کی جاتی ہے ہم نے ٹیکس کلیکشن بہتر بنا کر ان اداروں کو بہتر ین بنایا، پیپلز پارٹی بلا تفریق خدمت میں سب سے آگے ہے اورہم چاہتے ہیں کہ آنے والا وقت پاکستانیوں کے لیے اور بھی بہتر ہو، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ برآمد اور مالیاتی پالیسی او رموثر بنانے کے لیے اصلاحات لانا ہونگی، سستی بجلی پیدا ہوگی تو زرعی و صنعتی شعبے کو فائدہ ہوگا، تھر پارکر اور نگر پارکر میں ہم نے 30 چھوٹے ڈیم بناکر ترقی کی راہ ہموار کی، فرق صرف یہ ہے کہ ہم خاموشی سے عوامی خدمت کے کام کرتے رہے، مگر اس بار الیکشن میں سیٹوں کی سنچری کریں گے، انہوں نے کہا کہ دونوں میاں صاحبان کا احترام کرتا ہوں لیکن حقائق پر بات ہونی چاہیے، ساہیوال پاور پروجیکٹ کے لیے تھر کا کوئلہ استعمال ہوتا تو باہر سے نہیں منگوانا پڑتا، کراچی حیدرآباد سپر ہائی وے کا افتتاح نواز دور میں ہوا اور آج پھر اسی روٹ پر موٹر وے بنانے کی بات ہورہی ہے کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ تھر کول پروجیکٹ انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر اقدامات ہمارے کارنامے ہیں حقائق کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا، کراچی میں شاہراہ نور جہاں، شاہراہ حمایوں، کے ڈی اے چورنگی، بختیاری یوتھ سینٹر سب جگہ ہم نے کام کیا میاں شہباز شریف نے 1.4 ارب روپے سائٹ کے علاقے کو دینے کا کہا مگر ایک روپیہ نہیں دیا، کے فورکے لیے اعلان کے باوجود 125 ارب بجٹ میں نہیں رکھے جبکہ سائٹ کی 31 سڑکیں ہم تعمیر کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ میرا صوبہ اور میرا شہر کراچی ایسا نہیں ہے جیسا اسے دکھا یا جاتا ہے، تنقید اور منفی سوچ سے نکل کر مثبت پہلو پر توجہ دینی چاہئے، انہوں نے کہا کہ آؤٹ ڈور ایڈواٹائزر غیر قانونی کاموں کے لیے سازش کررہے ہیں مگر میں بلیک میلنگ پر یقین نہیں رکھتا، کے ایم سی قانون کے مطابق اور سندھ کابینہ کے رولز کے تحت اس مسئلہ سے نمٹ رہی ہے، مجھے میئر بنے 6 ماہ ہوئے ہیں گزشتہ 6 ماہ کے دوران اور اب وصول ہونے والے ریونیو کو دیکھیں تو فرق صاف پتا چل جائے گا،بد قسمتی سے ہم منفی چیزوں میں پھنسے رہتے ہیں اور وسیع تر وژن کو نظر انداز کردیتے ہیں، کے ایم سی کو ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے آمدنی بہتر کرنا ہوگی، پینشنرز کے جائز مطالبات کو پیپلز پارٹی کا میئر ہی حل کرائے گا۔