شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ہاکی فیڈریشن کو سالانہ 50کروڑ کی ضرورت ہے:رانا مجاہد علی

کراچی: پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل رانا مجاہد علی نے کہا ہے کہ 2020ءتک ویژن ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا پروگرام تربیت دیدیا ہے۔ کراچی پریس کلب کے میں صحا فیوں سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ویژن ٹوئنٹی ٹوئنٹی سمیت قومی اداروں میں قومی کھیل کی ٹیموں کی بحالی اور جونیئرز کی سطح پر ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کا انعقاد بھی شامل ہے جبکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے تحت آل پاکستان انٹراسکول ہاکی ٹورنامنٹ بھی منعقد کیا جائیگا۔سینئرز کے ساتھ جونیئر ہاکی پر بھی خاص توجہ دی جائیگی جس کیلئے ہم نے دو جونیئر ہاکی ٹیموں کی تشکیل کا پلان بنایا ہے کیونکہ جونیئر ہاکی ورلڈکپ چار سال کے بجائے ہر دوسال بعد ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ رانا مجاہد نے کہا کہ ویژن ٹوئنٹی ٹوئنٹی پروگرام کے وہ خود نگراں ہونگے جبکہ اولمپئن طاہر زمان کوچزکے سربراہ ہونگے اس پروگرام کے تحت پاکستان میں10 ڈومیسٹک ہاکی ٹورنامنٹ منعقد کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے جس میں6کا انعقاد لازمی ہوگا، ٹیموں کی زیادہ تعداد میں شرکت کو یقینی بنانے کیلئے پاکستان کے بڑے ادارے، آرمی، پی آئی اے ، واپڈا اور سوئی گیس سے درخواست کی جائیگی کہ وہ ہر ایونٹ میں اپنی دو ٹےموں کو حصہ لینے کا پابند کریں۔ رانا مجاہد علی نے کہا کہ فیڈریشن کو سالانہ50 کروڑ فنڈز کی ضرورت ہے جس کے لیے ہم نے بین الصوبائی رابطہ کے وزیر ریاض حسین پیرزاد، سیکریٹری اعجازچوہدری اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل اخترنواز گنجیرا سے ملاقاتیں کی ہیں اور انھوں نے قومی بجٹ میں ہاکی کیلئے مذکورہ فنڈز کو مخصوص کرانے کیلئے یقین دہانی کروائی ہے، فنڈز کی فراہمی کیلئے ایازصادق اور شہبازشریف نے بھی فیڈریشن سے تعاون کیا ہے۔ انھوںنے کہا کہ جب ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری کا عہدہ سنبھالا تھا تو فیڈریشن شدید مالی بحران کا شکار اور تنقید کی زد میں تھی قومی اولمپئنز دو دھڑوں میں منقسم تھے ہم قومی ہاکی کی بہترین کیلئے اپنے سنیئرزکو عزت دی انہیں فیڈریشن میں لائے اور انہیں اپنے کام میںبا اختیار کیا اب فیڈریشن کے معاملات سب کی مشاورت سے طے کئے جارہے ہیں، فیڈریشن نے مشکل مرحلہ طے کرلیا ہے حالات بدل چکے ہیں اب فیڈریشن بہتری کی رواں دواں ہے، فیڈریشن کو فنڈز کی فراہمی شروع ہوگئی ہے جس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔