پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 انتخابی مہم گرمانے کے لیے اردو،سندھی،بلوچی، پشتو اورسرائیکی و چترالی ترانوں کی مقبولیت

کراچی(پی پی آئی) ملک بھر میں جاری انتخابی مہم میں مختلف سیاسی جماعتیں اردو،پنجابی،سندھی،بلوچی، پشتو،ہندکو اورسرائیکی و چترالی  زبانوں میں نئے نغموں کا بھرپور استعمال کر رہی ہیں۔ پی پی آئی کے مطابق انتخابی مہم کے دوران یہ سیاسی ترانے جلسوں اور کارنر میٹنگز میں چلائے جا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی انہیں سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکن اپنے شیئر کرتے ہیں۔بعض سیاسی نغموں کو زیادہ مقبولیت مل جاتی ہے جس کے بعد صارفین انہیں شارٹ ویڈیوز کے پس منظر میں چلانا شروع کر دیتے ہیں، یوں شہری و دیہی علاقوں میں مقبول ٹِک ٹاک جیسے پلیٹ فارم پر بھی مہم آگے بڑھنے لگتی ہے۔اس مرتبہ عام انتخاباتمیں ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علمااسلام، استحکام پاکستان پارٹی،عوامی نیشنل پارٹی، اور جماعت اسلامی،جی ڈی اے کے علاوہ کچھ آزاد امیدواروں نے بھی سیاسی ترانے بنوائے ہیں جو جلسوں کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی الیکشن کمپین کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔  پی پی آئی کے مطابق انتخابی مہم کے لیے جس طرح نعرہ اہم ہوتا ہے، اسی طرح سیاسی ترانے بھی امیدواروں کی انتخابی تشہیر کی ضرورت بن چکے ہیں۔ان ترانوں کی وجہ سے امیدوار ووٹرز تک آسانی سے رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی سیاسی نغموں میں امیدواروں کے منشور کے نمایاں پہلووں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے ایسا بھی ہوتا ہے کہ زیادہ مقبول ہو جانے والے سیاسی ترانوں کی وجہ سے ووٹرز پارٹیوں کی جانب مائل ہو جاتے ہیں۔