شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

دنیا بھر میں 20 فیصد خوراک ضائع، 78 کروڑ سے زائد افراد بھوک کا شکار

کراچی(پی پی آئی)اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے (یو این ای پی) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ایک طرف 78 کروڑ 30 لاکھ افراد بھوک کا شکار ہیں، دوسری جانب عالمی سطح پر 20 فیصد خوراک ضائع ہوتی ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ’یو این ای پی‘ کے تازہ ترین اشاریے کے مطابق 2022 میں 1.05 ارب ٹن (تقریباً 19 فیصد) خوراک ریٹیلرز، گھروں سے باہر کھانے پینے کی جگہوں پر اور گھروں میں ضائع ہوئی۔پی پی آئی کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے بتایا کہ مزید 13 فیصد خوراک اجناس کی کٹائی سے فروخت تک ترسیلی مراحل میں ضائع ہوئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ خوراک گھروں میں ضائع ہوتی ہے، جس کا سالانہ حجم 63 کروڑ 10 لاکھ ٹن ہے، یہ ضائع ہونے والی مجموعی خوراک کا تقریباً 60 فیصد بنتا ہے، باہر کھانے پینے کی جگہوں اور خرید و فروخت کے دوران بالترتیب 18 کروڑ اور 13 کروڑ 10 لاکھ ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے۔بتایا گیا کہ ہر فرد سالانہ اوسطاً 79 کلو خوراک ضائع کرتا ہے، جس سے بھوک سے متاثر ہر فرد کو روزانہ 1.3 کھانے فراہم کیے جاسکتے ہیں۔’یو این ای پی‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے بتایا کہ یہ ایک عالمگیر المیہ ہے، خوراک ضائع ہونے کی سبب لاکھوں افراد بھوکے ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جاپان اور برطانیہ اس کی نمایاں مثال ہیں، جہاں اس طریقے سے خوراک کے ضیاع میں بالترتیب 18 اور 31 فیصد تک کمی لائی گئی ہے۔