اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بلوچستان، اغوا ہونے والے دس افراد کا سراغ نہ مل سکا

کوئٹہ (پی پی آئی)سیکیورٹی فورسز صوبہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے زرغون غر سے 3 روز قبل اغوا کیے گئے 10 افراد کا سراغ لگانے میں تاحال ناکام ہیں۔مسلح عسکریت پسندوں نے ہرنائی ضلع کے زرغون غر کے علاقے میں شعبان پکنک پوائنٹ پر شناختی کارڈز دیکھنے کے بعد مجموعی طور پر 14 پکنک منانے والوں کو اغوا کر لیا تھا۔لیویز فورس کے اہلکاروں کے مطابق مسلح افراد نے اغوا سے قبل قریب موجود پہاڑیوں پر پوزیشن سنبھال رکھی تھیں، تاہم، انہوں نے پہاڑی علاقے میں 4 افراد کو چھوڑ دیا اور بعد میں ان کی گاڑی چھوڑ دی۔اغوا کیے گئے افراد میں محمد حمزہ اور محمد حارث شامل تھے، دونوں کا تعلق ملتان سے تھا، دیگر افراد میں 4 بھائی شامل ہیں جن کے نام حسن رضا، ریحان رضا، فرحان رضا اور محمد رضا ہیں جو کوئٹہ کے رہائشی ہیں۔ان کے علاوہ ایک مغوی جہانزیب کا تعلق پنجاب کے ضلع صادق آباد سے، ایک مغوی کسٹم اہلکار عبدالبصیر درانی ہیں جو کوئٹہ کے رہائشی ہیں، حکام کے مطابق دیگر 2 مغویوں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام 10 افراد کو بازیاب کرانے کی کوششیں جاری ہیں جب کہ اس سلسلے میں سیکیورٹی فورسز سرچ آپریشن کر رہی ہیں۔تمام افراد کے اغوا کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔