سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات سنگین خطرہ ہیں:پاسبان

وزیراعظم سے مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کی ملاقات

گورنرسندھ کی اسپیکرقومی اسمبلی ،جرمنی کی سفیر اور چیئرمین سینیٹ سے ملاقاتیں

کھورواہ میں جھگڑے کے دوران خاتون ہلاک ،، 2 مرکزی ملزمان گرفتار

نواز شریف کی زیر صدارت ن لیگ کا اعلیٰ سطحی اجلاس ، آزاد کشمیر کی صورت حال پر تفصیلی غور

اوکاڑہ ،لالا زار کالونی ویں کی ٹکر سے عمر رسیدہ خاتون جاں بحق ،بیٹا زخمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سیاسی تقرریاں ہمیشہ دیہی شہری تقسیم اور نسلی تناؤ کو بڑھاتی ہیں

کراچی ((پی پی آئی) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے تمام سرکاری محکموں میں بھرتیاں صرف سندھ پبلک سروس کمیشن  کے زریعے دیہی و شہری40:60 کوٹے پر ہونی چاہئیں۔انہوں نے سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ظفر احمد راجپوت پر مشتمل بینچ کے فیصلے کا پرتپاک خیرمقدم کیا، جس میں سندھ حکومت کے محکموں میں 54,000 سے زائد بھرتیوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے، حکومت کو 40:60 کے تناسب سے شہری اور دیہی کوٹے پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔الطاف شکور نے کہا کہ بھرتیوں میں دیہی اور شہری کوٹہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے متاثرہ افراد میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے دیہی اور شہری تقسیم ہوتی ہے جو کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں نہیں ہے۔ درحقیقت دیہی شہری کوٹہ سندھ کے ساتھ امتیازی سلوک ہے کیونکہ یہ کوٹہ باقی تینوں صوبوں میں نہیں ہے۔ دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی شہری اور دیہی کوٹہ نہیں ہونا چاہیے اور تمام بھرتیاں میرٹ پر کی جائیں۔ قبل ازین اس سلسلے میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کی آئینی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ پاسبان وسل بلوئر ہے اور اسمبلی قانون سازی کرے۔ ماضی میں پی پی پی ایم کیو ایم مخلوط حکومت میں کے ایم سی، کے ڈبلیو ایس بی، سٹی وارڈنز، تعلیم، صحت اور دیگر محکموں میں ہزاروں افراد کو سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا۔ ان غیر قانونی بھرتیوں کو بھی بند کیا جائے۔ سیاسی تقرریاں ہمیشہ دیہی شہری تقسیم اور نسلی تناؤ کو بڑھاتی ہیں جو کہ ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ پی ڈی پی تمام سرکاری بھرتیوں میں میرٹ اور حکمرانی کی حمایت کرتی ہے کیونکہ ایک قابل بیوروکریسی ہی ملک کو ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ آج پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کی جا رہی ہے کیونکہ اس وقت کی حکومتوں نے سیاسی بنیادوں پر ہزاروں فاضل افراد کو بھرتی کیا تھا۔ سیاسی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پارٹی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دیں کیونکہ یہی پاکستان میں گڈ گورننس بنانے کا واحد راستہ ہے۔