آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

غیر یقینی صورتحال،بجٹ میں بھاری ٹیکسز، بزنس کمیونٹی حکومتی پالیسیوں سے  مایوس

کراچی(پی پی آئی)کاروباری اداروں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو  خراب ترین قراردیا ہے،مسلسل سیاسی انتشار اور بجٹ میں نئے ٹیکسز کے بوجھ کی وجہ سے کاروباری ادارے شدید مایوسی کا شکارہیں۔ ایک  رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25کیلئے حکومت کا مالیاتی پلان کاروبار کیلئے موزوں نہیں ہے جبکہ بیشترکاروباری ادارے مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔  85فیصد کاروباری ادارے موجودہ حکومت کے مالیاتی منصوبے کو “اچھا بجٹ” نہیں سمجھتے البتہ 11فیصد مینوفیکچررز اور 15فیصد سروس پرووائیڈرز نے کہاہے کہ بجٹ کاروبار دوست ہے۔ پہلی سہ ماہی کی طرح اس سہ ماہی میں بھی زیادہ تر کاروباری اداروں کا مسئلہ مہنگائی ہے اور 5میں سے 2تقریباً 37فیصد کاروباری ادارے چاہتے ہیں کہ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرے کمر توڑمہنگائی کی وجہ سے صارفین کی قوتِ خرید مسلسل کم ہورہی ہے۔ بہت زیادہ مہنگائی اورخراب کاروباری صورتحال کی وجہ سے 9فیصد آجروں خاص طورپر مینوفیکچررز کو دوسری سہ ماہی میں اپنی افرادی قوت کم کرنا پڑی۔ کیونکہ کاروباری ادارے پہلے ہی بالواسطہ اور بلا واسطہ طریقوں سے مختلف ریگولیٹری اقدامات اور ٹیکسز کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق انہوں نے کہاکہ حکومت کو کاروباری اداروں کی آواز سننے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔