روبوٹکس بینکنگ کسٹمر کے تجربے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار

انشورنس انڈسٹری کا بجٹ مذاکرات میں مالیاتی اصلاحات کے لیے زور

سندھ کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی امداد کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی

دارالحکومت میں وسیع سرچ آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں منشیات برآمد

پولیس چیف کی سنگین جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی ہدایت

اعلیٰ سطحی فلسطینی مذاکرات کے دوران پاکستان کا غزہ پر گہرے دکھ کا اظہار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 درآمدی پولیسٹر یارن پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم  کی جائے: یارن مرچنٹس کی اپیل

کراچی(پی پی آئی)پاکستان یارن مرچنٹس ایسو سی ایشن (پائما) کے سینئر وائس چیئرمین سہیل نثار، وائس چیئرمین جاوید خانانی اور ایگزیکٹیو کمیٹی ممبران نے حکومت سے ٹیکسٹائل کے بنیادی خام مال پولیسٹر فلامنٹ یارن پر5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی(آرڈی) کو ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایچ ایس کوڈ5402.3300،5402.4700 اور5402.4600 کے تحت پولیسٹر یارن کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی ہٹائی جائے بصورت دیگر ٹیکسٹائل اور اس سے منسلک ایس ایم ایز تباہ ہوجائیں گی۔پی پی آئی کے مطابق سہیل نثار نے حکومت سے اپیل میں کہا کہ گذشتہ سال اور رواں سال نیشنل ٹیرف کمیشن نے یہ ہدایت کی تھی مذکورہ ایچ ایس کوڈ کے تحت درآمدی پولیسٹر یارن (خام مال) پر عائد5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ہٹائی جائے گیپائما رہنما ؤں کے مطابق پولیسٹر یارن پر آر ڈی کا نفاذ ناجائز ہے کیونکہ یہ خالصتاً خام مال ہے جس سے  سستا کپڑا بنتا ہے۔کاروباری وپیداواری لاگت میں اضافے خاص طور پر زائد یوٹیلٹی و دیگرچارجز کی وجہ سے ہماری مقامی مارکیٹ میں سرگرمیاں مانند پڑ گئی ہیں، صنعتیں بھی نہیں چل پا رہیں۔ ان حالات میں اگر صنعتوں کو خام مال ہی مہنگا ملے گا تو وہ اپنی پیداواری سرگرمیاں کیسے جاری رکھ سکیں گی؟ان کا کہنا تھا کہ پولیسٹر یارن کی درآمد پر آرڈی کا نفاذ ٹریڈ کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ مقامی انڈسٹری کو پہلے ہی11فیصد کسٹم ڈیوٹی کی سبسڈی مل رہی ہے لہٰذا پولیسٹر یارن کی درآمد پر اگر ہم5 فیصد آر ڈی دیتے ہیں تو یہ مجموعی طور پر تقریباً19سے20 فیصد تک چلا جاتا ہے۔سہیل نثار،جاوید خانانی اور ایگزیکٹیو کمیٹی ممبران نے حکومت سے اپیل کی ٹیکسٹائل انڈسٹری باالخصوص ایس ایم ایز کو بند ہونے سے بچانے کے لیے پولیسٹر یارن کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کی جائے۔ مزیدبرآں اگر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالا گیا تو صنعتی یونٹس بند ہوجائیں گے اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔