آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

دہشتگرد صرف ایک ایس ایچ او کی مار، کسی بڑے آپریشن کی ضرورت نہیں، وزیر داخلہ

کوئٹہ(پی پی آئی)وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے دہشت گرد صرف ایک ایس ایچ او کی مار ہیں، اِن کا جلد بندوبست ہوگا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کی آمد کا مقصد یہاں کے عوام کو بتانا ہے کہ ہم وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ کھڑے ہیں جو یہ فیصلہ کریں گے ہم ان کے ساتھ ہیں۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ جو کچھ مانگ رہے ہیں، انہیں وفاق کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ جو کچھ بلوچستان میں ہوا ہمیں اس پر دکھ ہے، یہ واقعات قابل برداشت نہیں، قتل و غارت کے ان واقعات سے ہمیں ڈرایا نہیں جاسکتا، انہیں بہت جلد ایک اچھا میسج مل جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کسی بڑے آپریشن کی ضرورت نہیں، یہ صرف ایک ایس ایچ او کی مار ہیں۔ ہمیں ان کے لیے کسی لمبی چوڑی سائنس کی ضرورت نہیں، یہ دہشت گرد ہیں جن کا مقابلہ کرنا ہماری فورسز جانتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ صرف ایک ایس ایچ او ہی آپریشن کرے گا، مطلب یہ کہ چھوٹی کارروائی ہوگی، بلوچستان سب سے بڑا صوبہ ہے آپ وہاں چپے چپے پر فورسز نہیں لگا سکتے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہماری چار ہزار کلومیٹر طویل سڑکیں ہیں، دہشت گرد ریکی کرتے ہیں، وہاں کوئی بھی ایک انچ ڈھونڈ کر کارروائی کردیتا ہے۔ وہ سب سے ہلکا ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں، بسوں سے مسافروں کو اتارتے ہیں اور مار کر بھاگ جاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت بالکل جاگی ہوئی ہے، دہشت گردوں کے خلاف مقابلے کی جو سوچ اس بلوچستان حکومت میں آئی ہے پہلے کبھی نہیں آئی۔ ان دہشت گردوں نے چھپ کر حملہ کیا، ہمت ہوتی تو سامنے آکر مقابلہ کرتے۔