پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 دنیا بھر میں نابینا افراد کی تعداد 3 کروڑ 60 لاکھ،پاکستان میں 20 لاکھ بینائی سے محروم

کراچی(پی پی آئی)اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ہر سال پندرہ اکتوبر کو سفید چھڑی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ 1964  میں سفید چھڑی کو پہلی مرتبہ نابینا افراد کی شناخت اور ان کے لیے بطور سہارا منتخب کرنے سے شروع ہوا۔  پی پی آئی کے مطابق ہر برس اس دن کی مناسبت سے سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے بصارت سے محروم افراد کے متعلق آگاہی دینے کے لیے سیمینار اور ریلیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ 1930  میں ایک شخص نے لائنز کلب میں یہ خیال پیش کیا کہ نابینا افراد کے لیے چھڑی کا سفید رنگ مخصوص کردیا جائے تاکہ نابینا افراد کو مشکلات کم سے کم پیش آئیں۔ اس کے بعد ہر سال 15 اکتوبر کو وائٹ کین سیفٹی ڈے منایا جانے لگا۔۔ پاکستان میں یہ دن پہلی مرتبہ پندرہ اکتوبر 1972 کو منایا گیا۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں نابینا افراد کی تعداد تقریباً تین کروڑ 60 لاکھ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دو دہائیوں بعد یہ تعداد 11 کروڑ سے تجاوز کرسکتی ہے۔ پاکستان میں تقریباً 20 لاکھ افراد بینائی سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ یہاں اندھے پن کی شرح 1.08 ہے، جب کہ پاکستان میں جزوی نابینا افراد کی تعداد تقریباً 60 لاکھ کے قریب ہے۔ اندھے پن یا بصارت کی خرابی کی مختلف وجوہ ہیں۔ ان میں آنکھوں کے کئی امراض کے علاوہ دیگر بیماریاں، آلودگی اور ناقص خوراک وغیرہ شامل ہیں جن کی وجہ سے انسان بتدریج نابینا پن کی طرف جاسکتا ہے۔