پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے بھار ت کو تشویشناک ملک قراردیدیا

واشنگٹن(پی پی آئی) امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت کو تشویشناک ملک قرار دیتے ہوئے مذہبی عدم برداشت کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیاہے۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بی جے پی کے دوراقتدار میں بھارت میں مذہبی امتیاز کی پالیسیوں کوفروغ ملا۔مذہبی اقلیتوں اور انکے حامیوں کی آوازیں دبائی جارہی ہیں اوران کی زندگیاں اجیرن کر دی گئی ہیں۔مودی سرکار کی اقلیتوں کے خلاف پرتشدد اقدامات سے مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، دلتوں اورقبائلیوں پر منفی اثرات پڑے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے دودر حکومت میں مذہبی اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور مساجدسمیت اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو مسمارکیا گیا۔مودی سرکار کی جابرانہ پالیسیوں کے باعث اقلیتوں کوجائیداد وں سے محروم کیا جارہا ہے۔ جس سے بہار، اتر پردیش، دہلی اوردوسرے شہروں میں تشویشناک حد تک مذہبی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ 2002 کے گجرات فسادات میں بلقیس بانو کیس نے بھارت مین اقلیتوں کو انصاف نہ ملنے پر سوال اٹھادیئے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ دیگر اقلیتوں کی طرح مسلمانوں کوشہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی جیسے اقدامات پسماندہ کرنے کی گھناؤنی کوششں ہیں،جس کے باعث آسام میں 7لاکھ مسلمانوں کی شہریت کا خطرہ لاحق ہے۔ پی پی آئی کے مطابق  امریکی کمیشن کی رپورٹ میں پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے مذہبی آزادی کے حوالے سے اقدامات کو سراہا گیا ہے۔رپورٹ میں کہاگیا کہ پاکستان میں بروقت اورموثراقدامات کی بدولت مذہبی اقلیتوں کی آزادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مذہبی آزادی کیلئے کرتار پور راہداری،سیاسی میدان میں زیادہ نمائندگی اورقانونی تحفظ جیسی اہم کوششیں قابل تحسین ہیں۔