متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

شہداائے جموں کے خُون سے روشن شمع آج بھی و رخشاں ہے: چوہدری لطیف اکبر

مظفرآباد/آزاد کشمیر(پی پی آئی)5نومبر کا دن پاکستان سے کشمیریوں کی لازوال محبت اور بھارت سے شدید نفرت کا عکاس ہے۔بھارتی دہشت گردانہ ذہنیت و عمل اور پاکستان سے لازوال محبت نے جموں کے کشمیریوں کو پاکستان کی جانب ہجرت پر مجبور کیا۔ کشمیریوں کوکیا خبر تھی کہ اُن کی یہ خوشی کا سفرقیامت صغریٰ میں تبدیل ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار سپیکر قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر نے 6نومبر یوم شہداء جموں کے حوالہ سے اپنے خصوصی بیان میں کیا اور کہاکہ  بھار ت نے جب بھانپ لیا کہ کشمیریوں کو دبانے اور پاکستان سے اُن کی محبت کو ختم کرنے  کا کوئی غیر انسانی حربہ کارگر ثابت نہیں ہو رہاتو سرکاری سطح پر اعلان کیا گیا کہ پاکستان جانے کے خواہشمند پولیس لائن گراؤنڈ جموں پہنچ جائیں تاکہ اُن کی خواہش کو عملی جامہ پہنایا جا سکے لیکن اُنہیں کیا خبر تھی کہ یہ سفر بھارتی سفاکیت کی نظر ہو تے ہوئے لاکھوں کشمیریوں کی شہادت پر منتج ہو گا۔اُنہوں نے کہا کہ آج جبکہ 77سال بیت گئے کشمیریوں کی پاکستان سے محبت میں رتی برابر کمی واقع نہیں ہوئی اور نہ ہی بھارت کی سفاکانہ و دہشت گردانہ ذہنیت میں کوئی کمی واقع ہوئی۔ آج تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں 13جولائی 1931،27اکتوبر1947ء  اور 6نومبر1947ء  شہداء  جموں کی تاریخ کو دہرایا جا رہا ہے۔شہداء جموں کے خُون سے روشن ہونے والی شمع اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج بھی روشن و رخشاں ہے اور بھارتی جبر و استبداد کو کشمیری آج بھی تسلیم نہ کرتے ہوئے بھارتی فورسز کے سامنے سینہ سپر ہیں۔