جمعیت طلبہ عربیہ کا 54 واں یوم تاسیس کل ملک بھر میں منایا جائے گا

بنو قابل پروگرام کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والے معاونین کے اعزاز میں جماعت اسلامی کی تقریب پذیرائی

کراچی میں موبائل کامرس 2026 کانفرنس منعقد ،وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سائنس شریک

بلوچستان میں ‘ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026’ متعارف

خواتین کی سفارت کاری کے عالمی دن کے موقع پرصدر مملکت کا پیغام

پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا، کے صدر کی گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ایف بی آر سے بندرگاہوں پر کنسائمنٹس کا بیک لاگ ختم کرنے کی اپیل

کراچی (پی پی آئی)پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت فیس لیس کسٹمزکلیئرنس اسیسمنٹ متعارف کرانے کو سراہا ہے تاہم انتظامی امور کی بھرپور صلاحیتوں کے فقدان کے نتیجے میں بندرگاہوں پر درآمدی کنسائنمنٹس کے ڈھیر لگنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سے اپیل کی ہے کہ وہ کسٹم کلیئرنس میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے کنسائمنٹس کے بیگ لاگ کو ختم کرنے میں کردار ادا کریں تاکہ درآمد کنندگان کو ڈیمرج اور ڈی ٹینشن کے ممکنہ نقصانات سے بچایا جاسکے۔سلیم ولی محمد نے چیئرمین ایف بی آر سے اپیل میں مزیدکہا کہ فیس لیس کسٹمزکلیئرنس اسیسمنٹ کا نفاذ خوش آئند مگر یہ سسٹم متعارف کروانے سے قبل کنسائنمٹس کی بلاتاخیر کلیئرنس کو یقینی بنانے کی بھرپور انتظامی تیاری کرنی چاہیے تھی جو کہ شاید نہیں کی گئی جس کی وجہ سے بندرگاہوں پر کلیئرنس کے منتظر درآمدی کنسائمنٹس کے ڈھیر لگ گئے ہیں جس سے ڈیمرج اور ڈی ٹینش کی مد میں درآمدکنندگان کو خطیر مالی نقصانات کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی خام مال سے لدے کنسائمنٹس کی بروقت کلیئرنس یقینی نہ بنائی گئی تو صنعتوں کو خام مال کی فراہمی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے جس سے برآمدی آرڈرز کی بروقت ڈیلیوری ممکن نہیں ہوسکے گی اور ملکی برآمدات پربھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔سلیم ولی محمد نے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سے اپیل میں کہا کہ فیس لیس کسٹمزکلیئرنس اسیسمنٹ کے کامیابی سے نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ یومیہ بنیاد پر درآمدی کنسائمنٹس کی بروقت کلیئرنس کو یقینی بنایا جائے اور بندرگاہوں پر بیک لاگ کو فوری ختم کرنے کے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ صنعتوں کو بلارکاوٹ پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے خام مال فراہم کیا جاسکے جس کے یقینی طور پر ملکی برآمدات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور قتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔