ایبٹ آباد میں حاشر تاج تشدد کیس کا مرکزی ملزم گرفتار

سندھ میں نئی کنوؤں سے گیس کی پیداوار کا آغاز

کراچی پاپوش میں تشدد زدہ لاش دریافت

اوپن مارکیٹ میں ڈالر مستحکم، یورو میں کمی جبکہ برطانوی پاؤنڈ معمولی مہنگا

تلہار کے نواح میں مہنگائی سے پریشان محنت کش نےخود کشی کرلی

ٹھٹھہ بائی پاس کے قریب کار کی ٹکر سے راہگیر خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق ایک زخمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

شرح سود سنگل ڈیجٹ پر لائی جائے، انڈسٹری مشکلات کا شکارہے، شیخ عمر ریحان

کراچی24جنوری (پی پی آئی) پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ 27 جنوری کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود کو کم کرکے سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ 13 فیصد شرح سود انڈسٹری کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے اور معیشت کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ شیخ عمر ریحان نے کہا کہ شرح سود اب بھی خطہ میں سب سے زیادہ اور کاروبار کے لیے مہنگائی اور مالی بوجھ میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ زیادہ شرح سود کی وجہ سے کاروباری لاگت میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے، جس سے نہ صرف انڈسٹری کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے بلکہ معیشت کی ترقی کی رفتار بھی سست ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلند شرح سود کے باعث صنعتی شعبے کو قرضوں کے حصول میں دشواری کا سامنا ہے، جس سے آپریشنز کی لاگت بڑھ گئی ہے اور نئے سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہو گئے ہیں۔ شیخ عمر ریحان نے کہا کہ شرح سود میں کمی لانا ضروری ہے تاکہ صنعتوں کو اپنی مالی حالت بہتر بنانے اور معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ پی وی ایم اے کے چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں صنعتی شعبے کو اضافی بوجھ سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود میں کمی سے انڈسٹری کو نہ صرف سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول ملے گا بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور ملک کی معیشت مستحکم ہو گی۔ شیخ عمر ریحان نے حکومت اور اسٹیٹ بینک سے اپیل کی کہ وہ کاروبار دوست پالیسیاں اپنائیں اور صنعتوں کو اس بحران سے نکالنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ چیئرمین پی وی ایم اے نے مزید کہا کہ انڈسٹری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور اگر اس کا مالی بوجھ کم نہ کیا گیا تو اس کے منفی اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔