پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ٹھٹھہ سے پولیو کیس رپورٹ

اسلام آباد (پی پی آئی): نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں پولیو کے خاتمے کے لیے قائم ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے ضلع ٹھٹھہ، سندھ سے پولیو کیس کی تصدیق کر دی ہے۔پاکستان پولیو ایراڈیکیشن پروگرام کی رپورٹ کے مطابق، یہ رواں سال سندھ سے رپورٹ ہونے والا چوتھا جبکہ ملک بھر سے چھٹا پولیو کیس ہے۔گزشتہ سال 2024 میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 74 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں سے 27 بلوچستان، 23 سندھ، 22 خیبر پختونخوا، جبکہ ایک کیس پنجاب اور ایک اسلام آباد سے سامنے آیا تھا۔پولیو ایک ایسا مرض ہے جو بچوں کو مفلوج کر دیتا ہے اور اس کا کوئی علاج موجود نہیں۔ پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو بار بار پولیو ویکسین کے قطرے پلانا اور ان کا حفاظتی ٹیکوں کا شیڈول مکمل کرنا اس بیماری سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے۔پولیو پروگرام بچوں کو مفلوج کرنے والی اس بیماری سے بچانے اور وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے سخت ویکسینیشن مہم چلا رہا ہے۔سال 2025 کی پہلی ملک گیر پولیو مہم کے دوران رواں ماہ کے آغاز میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو ویکسین دی گئی۔ اس کے علاوہ، کوئٹہ ڈویژن اور کراچی میں 20 سے 28 فروری کے دوران fIPV-OPV مہم کے تحت 9 لاکھ کے قریب بچوں کو انجکشن اور زبانی پولیو ویکسین دی گئی تاکہ ان کی قوت مدافعت مزید مضبوط کی جا سکے۔ یہ مہم ”بگ کیچ اپ” پروگرام کے تحت منعقد کی گئی، جس کا مقصد حفاظتی ٹیکوں سے محروم یا نامکمل ویکسین والے بچوں کو 12 مختلف قابلِ بچاؤ بیماریوں سے محفوظ بنانا ہے۔مزید برآں، افغانستان کی سرحد سے متصل یا افغان مہاجر کیمپوں کی موجودگی والے 104 یونین کونسلز میں بھی ایک خصوصی ویکسینیشن مہم کا انعقاد کیا گیا، جس میں 6 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی تاکہ سرحد پار اور اندرون ملک پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔پولیو پروگرام تمام والدین پر زور دیتا ہے کہ وہ ہر پولیو مہم کے دوران اپنے بچوں کو ویکسین ضرور پلائیں تاکہ انہیں اس موذی بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔