پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

افغانستان پر تجارتی، معاشی، اقتصادی اور راہداری پابندیاں عائدکی جائیں:پاکستان جسٹس و ڈیموکریٹک پارٹی

لاہور،7مارچ (پی پی آئی)پاکستان جسٹس و ڈیموکریٹک پارٹی نے افغانستان پر تجارتی، معاشی، اقتصادی اور راہداری پابندیاں عائد کرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے وفاقی کابینہ کی سطح پر عملدرآمد کے لیے لائحہ عمل بنانے کی تجویز دی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پابندیوں کے دورانیے کا باقاعدہ اعلان کیا جائے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ صرف بارڈر بند کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ حکومت کو ملک کے زرعی شعبے اور صنعتوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے جو اپنی پیداوار اور خوردنی اشیا  کی کھیپ افغان خریداروں کو غیر قانونی طور پر فروخت کرتے ہیں۔ اسی طرح غیر ملکی کرنسی کی افغانستان سمگلنگ اور فروخت کو بھی بند کرنے کی ضرورت ہے۔مزید برآں، پارٹی نے تجویز دی ہے کہ افغانستان کے شہریوں کی غیر ملکی سفارت خانوں تک رسائی محدود کی جائے۔ کراچی کی بجائے گوادر کو افغانستان کے لیے سمندری تجارت کے لیے مخصوص کیا جائے اور اگر ضرورت پڑے تو طورخم اور چمن سے گوادر تک ریلوے لائن بھی بچھائی جا سکتی ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ افغانستان کے ٹرکوں کی سمندری پورٹس اور انڈیا تک براہ راست رسائی مکمل بند کی جائے۔ اگر افغانستان کو انڈیا سے تجارت کرنی ہے تو وہ صرف پاکستانی مال بردار ٹرکوں کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گی۔ پارٹی نے واضح کیا کہ اس عملی دور میں کسی بھی جگہ برادر اسلامی ملک کی اصلاح نہیں ہے بلکہ دوطرفہ باہمی عزت و احترام پر مبنی تعلقات کا وجود ہے۔”