شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کیٹی بندر، کارو چھان ساحلی پٹی پر زراعت ایک طرف پینے کا پانی بھی میسر نہیں: سینیٹر سسئی پلیجو

ٹھٹھہ 06اپریل(پی پی آئی)  سابق صوبائی وزیر سینیٹر سسئی پلیجو نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت پاکستان کے ہر شہری کو برابری کا حق حاصل ہونا چاہیے، لیکن سندھ میں زراعت اور پینے کے پانی کی قلت کے باوجود خواب دیکھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ کے وسائل کی غیر مساوی تقسیم پر سوال اٹھایا ہے۔سسئی پلیجو نے کہا کہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر واقع کیٹی بندر اور کارو چھان کے ساحلی علاقوں میں شہریوں کو زراعت تو دور کی بات، پینے کے پانی تک رسائی نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سندھ کی معیشت کو ترقی دینے کے بجائے سندھ دشمن نہریں بنانے کے منصوبے زیر غور ہیں۔سینیٹر پلیجو نے سوال اٹھایا کہ سندھ سے حاصل ہونے والے قدرتی وسائل کی 70 فیصد سے زائد پیداوار کے باوجود سندھ خود ان وسائل سے محروم کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ وفاق اور ادارے سندھ کے پرامن مزاج کو کمزوری نہ سمجھیں، اور سندھ کے عوام مزید خاموش نہیں رہ سکتے۔سینیٹر پلیجو نے حکمرانوں سے سوال کیا کہ جو صوبہ پورے ملک کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، اسے مسلسل غربت، بھوک اور افلاس کی صورتحال میں کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ انہوں نے سندھ کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا۔