آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عالمی تجارتی کشمکش نے پاکستان کی معاشی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا،ماہرین

کراچی،  18 اپریل(پی پی آئی) پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پا ئیلر) اور شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری پالیسی اصلاحات نہ کی گئیں تو عالمی تجارتی جنگیں اور محصولات میں اضافہ پاکستان کی معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔”تجارتی جنگیں اور محصولات میں کشیدگی: پاکستان، خطے اور دنیا پر معاشی اثرات” کے عنوان سے ہونے والے اس سیمینار میں معاشی ماہرین، صنعت کاروں، مزدور نمائندوں اور سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی، اور عالمی تجارتی پالیسیوں کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔معروف ماہر معیشت ڈاکٹر اسد سعید نے کلیدی خطاب میں کہا کہ پاکستان کی کمزور معاشی بنیادیں اسے عالمی جھٹکوں کے لیے زیادہ حساس بنا دیتی ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ ملک کے صنعتکار پہلے ہی ٹیکس مراعات اور سستی توانائی کی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث وہ تجارتی جنگوں کے اضافی دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال سے اجرتوں اور روزگار پر دباؤ بڑھے گا، اور مہنگائی کے مقابلے میں کم از کم اجرت میں اضافہ ناکافی رہے گا۔اگرچہ پاکستان کا امریکی تجارتی خسارے میں حصہ محض 0.3 فیصد ہے، ڈاکٹر سعید نے نشاندہی کی کہ بالواسطہ اثرات، جیسے عالمی قیمتوں اور درآمدی ذرائع میں تبدیلی، ملکی برآمدات کو متاثر کر سکتے ہیں۔انہوں نے زرعی اور معدنیاتی شعبوں میں دوطرفہ تجارتی معاہدوں کے ذریعے برآمدات میں توسیع کے مواقع کا بھی ذکر کیا۔عالمی رجحانات پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر سعید کا کہنا تھا کہ امریکا کی صنعت کاری کی بحالی کی کوششیں مہارت یافتہ مزدوروں اور مہاجرین کے لیے کھلی پالیسیوں کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتیں۔مزدور رہنما قمر نے ترقی پذیر ممالک میں محنت کشوں پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جہاں سماجی تحفظ کا نظام کمزور ہو، وہاں مزدور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے اس وقت کو پاکستان کے لیے برآمدات میں تنوع اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کو مستحکم بنانے کا موقع قرار دیا۔صنعت کار ناظم ایف. حاجی، سول سوسائٹی کی نمائندہ مہناز رحمن اور پاکستان ایکارڈ کی کرسٹین ڈریو نے بھی سیمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ تجارتی پالیسیوں کو ورک پلیس کے معیارات، صنفی مساوات اور صنعتی استحکام کے اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔سیمینار میں متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کو عالمی تجارتی تبدیلیوں کو ایک چیلنج نہیں بلکہ پائیدار اور جامع معاشی اصلاحات کے موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔