اسلام آباد، 25 اپریل (پی پی آئی) – میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اپنے سرکاری دورہ چین کے دوران شنگھائی کے اربن پلاننگ آفس کا دورہ کیا، جہاں انہیں شہر کے جدید انفراسٹرکچر اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ یہ دورہ کراچی میں اسمارٹ شہری ترقی کے ماڈلز کو اپنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔میئر کراچی کے ہمراہ میونسپل کمشنر ایس ایم افضال زیدی، کے ایم سی کے مالی مشیر گلزار علی ابڑو، اور کلچر و اسپورٹس کے سینئر ڈائریکٹر مہدی ملْوف بھی موجود تھے۔ چینی حکام نے وفد کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور انہیں شنگھائی کے مربوط نظام، جدید شہری سہولیات، اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر تفصیلاً آگاہ کیا۔مرتضیٰ وہاب نے شنگھائی کے شہری ماڈل کو سراہتے ہوئے کراچی کے بلدیاتی نظام میں بہتری کے لیے ایسے ماڈلز اپنانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ معلومات کا تبادلہ اور بین الاقوامی تعاون کراچی کو ایک محفوظ، پائیدار اور مؤثر شہر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔وفد کو اسمارٹ انفراسٹرکچر، جدید ٹرانزٹ نیٹ ورکس، اور ڈیٹا پر مبنی شہری نظامات سے آگاہ کیا گیا۔ میئر کراچی نے کہا کہ مربوط ٹیکنالوجی اور منصوبہ بندی سے شہری مسائل میں کمی اور شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ دورہ کراچی اور شنگھائی کے درمیان اربن پلاننگ، اسمارٹ سٹی ٹیکنالوجی، اور پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں مستقبل میں تعاون کے دروازے کھولتا ہے۔ کراچی کی انتظامیہ اب اس دورے سے حاصل کردہ تجربات کی روشنی میں اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرے گی۔میئر مرتضیٰ وہاب نے اس دورے کو شہر کی ترقی کی جانب ایک مثبت اور دوررس قدم قرار دیا، اور کہا کہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اب محض خواب نہیں بلکہ حقیقت کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ اخلاص، وڑن اور عملی اقدامات کے ذریعے کسی بھی شہر کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔
Next Post
سول سوسائٹی کا کراچی بلڈنگ قوانین میں خفیہ ترامیم پر احتجاج، شفافیت اور شہری اراضی اصلاحات کا مطالبہ
Fri Apr 25 , 2025
کراچی، 25 اپریل (پی پی آئی) ممتاز شہری منصوبہ سازوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور حقوق کے علمبرداروں نے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 میں خفیہ ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان تبدیلیوں کے شہر کے ماحول، رہائش کے معیار اور […]
