آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مراد علی شاہ نے چولستان کینال منصوبے کی منسوخی کو سندھ کی فتح قرار دے دیا

کراچی، 29 اپریل (پی پی آئی)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پیر کو اولڈ ٹرمینل پر پرجوش کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے چولستان کینال منصوبے کی منسوخی کو سندھ کے لیے ایک سنگِ میل اور آئینی انصاف کی فتح قرار دیا۔کونسل آف کامن انٹرسٹ (سی سی آئی) کے اہم اجلاس میں شرکت کے بعد استقبالی ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے، مراد شاہ نے وضاحت کی کہ نگران حکومت کے دور میں منظور ہونے والے اس منصوبے کو جمہوری اور قانونی طریقے سے مسترد کیا گیا۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا صدر آصف علی زرداری، وفاقی اور صوبائی حکومتوں، اور سندھ کے عوام کی اجتماعی جدوجہد کے سر باندھا۔انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان پر کوئی بھی میلی نگاہ ڈالنے والا انجام کو پہنچے گا اور سندھ کی قیادت دشمن قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنائے گی۔ مراد شاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سندھ کے حقوق کے لیے سی سی آئی میں مؤثر انداز میں مقدمہ لڑنے اور کامیابی حاصل کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ نگران حکومت کے دور میں 17 جنوری 2024 کو جاری کی گئی آئی آر ایس اے سرٹیفکیشن اور 7 فروری 2024 کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ایکنک) کی جانب سے دی گئی مشروط منظوری کو باقاعدہ طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے جون 2024 میں اقتدار سنبھالتے ہی ان فیصلوں کو آئینی بنیادوں پر چیلنج کیا تھا۔انہوں نے بلاول بھٹو کی قیادت میں سندھ میں بڑے عوامی جلسوں کا حوالہ دیا، جو گڑھی خدا بخش، حیدرآباد اور سکھر میں منعقد ہوئے اور جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ان جلسوں میں چیئرمین پی پی پی نے واضح انداز میں نئے نہری منصوبے کی مخالفت کی اور عوامی حمایت حاصل کی۔مراد شاہ نے انکشاف کیا کہ بلاول بھٹو نے 24 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں منصوبے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد وزیراعظم سیکریٹریٹ سے ایک اعلامیہ جاری ہوا۔ وزیراعلیٰ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض افراد عوام کو یہ باور کراتے رہے کہ منصوبے کے لیے صدر یا وزیراعظم کے دستخط ضروری ہوتے ہیں، حالانکہ فیصلے اجتماعی فورمز جیسے ایکنک اور سی سی آئی میں ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سی سی آئی کا اجلاس، جو 2 مئی کو ہونا تھا، صدر زرداری اور سندھ کی قیادت کی کوششوں سے 28 اپریل کو بلایا گیا، جہاں باقاعدہ طور پر منصوبے کو مسترد کر دیا گیا۔ اجلاس میں اس اصول پر اتفاق کیا گیا کہ بغیر صوبوں کے باہمی اتفاق کے کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں ہوگا اور 1991 کے پانی معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کیا جائے گا۔