پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سندھ حکومت کا آؤٹ آف اسکول بچوں کی تعلیم کے لیے پانچ سالہ منصوبہ

کراچی، 8مئی (پی پی آئی) سندھ حکومت نے یونیسیف کے تعاون سے آؤٹ آف اسکول بچوں اور نوعمر بچوں کی تعلیم کے لیے پانچ سالہ ملٹی سیکٹورل روڈ میپ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس روڈ میپ کے تحت تعلیم میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی اور ان کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔اجلاس میں وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی صدارت میں یونیسیف کے نمائندوں کے ساتھ کراچی میں اجلاس ہوا۔ سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی، چیف پروگرام مینجر ڈاکٹر جنید سموں اور یونیسیف کے دیگر نمائندے بھی موجود تھے۔وزیر تعلیم نے کہا کہ بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام رکاوٹیں ختم کر کے بچوں کے لیے تعلیم کو سہل بنایا جائے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ملٹی سیکٹورل روڈ میپ کے تحت صحت، سوشل پروٹیکشن اور دیگر سیکٹرز پر کام کیا جائے گا۔ بچوں کو معاشی مسائل، تنازعات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کا سامنا ہے۔اس وقت سندھ میں 46 فیصد بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات ہیں۔ 25 فیصد لڑکیوں کی 18 سال سے پہلے شادی ہو جاتی ہے اور 38 فیصد بچوں کو معاشی مسائل کی وجہ سے محنت مزدوری کرنی پڑتی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی بنانی ہوگی تاکہ آئندہ نسلوں کو تعلیم کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اجلاس میں ارلی چائلڈ ایجوکیشن کے لیے ڈیٹا بیس تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔