پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عمر عبداللہ کے بعد محبوبہ مفتی نے بھی اسمبلی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

مودی حکومت سے مقبوضہ علاقے کے ثقافتی، سماجی اور سیاسی تشخص کو خطرہ ہے:پی ڈی پی
عمر عبداللہ اسوقت تک انتخاب نہیں لڑیں گے جب تک درجہ بحال نہیں ہوتا:نیشنل کانفرنس
سری نگر (پی پی آئی)مقبوضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کے بعدپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی مودی کی فرقہ پرست حکومت کی طرف سے مقبوضہ علاقے کے ثقافتی، سماجی اور سیاسی تشخص کو خطرے کے پیش نظر اسمبلی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق قبل ازیںنیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے اعلان کیا تھا کہ ان کے بیٹے عمر عبداللہ اس وقت تک اسمبلی انتخابات نہیں لڑیں گے جب تک جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال نہیں کیا جاتا۔محبوبہ مفتی نے سرینگر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگلے الیکشن میں حصہ لینا ان کی ترجیح نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں کیوںکہ برسراقتدار لوگ اختلاف کی آواز کو دبانے پر تلے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر میں خوف، نفرت اور بے یقینی کا ماحول بنا ہوا ہے اور ایسے ماحول میں الیکشن میں حصہ لینا میرے لیے ایک اہم سوال ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اقتدار کا حصول میری ترجیح نہیں ہے۔ ہم اپنے وجود کو بچانے کے لیے لڑ رہے ہیں کیونکہ برسراقتدار لوگ ہمارے وجود کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر میں اپنا فرقہ وارانہ ایجنڈا مسلط کرنا چاہتی ہے اوروہ جموں و کشمیر کی ثقافتی، سماجی اور سیاسی شناخت کو مٹانا چاہتی ہے۔ یہ مسلسل ملک کے آئین کو نقصان پہنچا رہی ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ مودی حکومت استعماری ذہنیت کے ساتھ سیاسی معاملات چلا رہی ہے۔بدقسمتی سے جموں و کشمیر ان کے لیے ایک تجربہ گاہ بن چکا ہے۔ گاندھی کا بھارت گوڈسے کا بھارت بن چکا ہے