سری نگر(پی پی آ ئی) بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ذہنی اورنفسیاتی امراض نے سنگین رخ اختیار کرلیا ہے جس پر ماہرین نے شدید تشویش کا اظہارکیاہے۔کشمیر میڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر بالخصوص وادی کشمیر میں ذہنی اورنفسیاتی امراض میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جس پر قابو پانے کی اشدضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ نفسیاتی اور ذہنی امراض میں اضافے کی وجہ ایک طرف مسلسل فوجی محاصرہ اوربھارتی فورسز کی ظالمانہ کارروائیاں اوردوسری طرف معاشی اوراقتصادی بد حالی ہے جس میں 5اگست 2019کے مودی حکومت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے بعد کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ عمر رسیدہ افراد اور خواتین بھی ان بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں یہاں تک بچے بھی ان کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔واضح رہے 5اگست 2019کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد علاقے میں ہرقسم کی شہری آزادیاں سلب کرلی گئی ہے اورقابض فورسز نے اپنی ظالمانہ کارروائیوں میں کئی گنا اضافہ کیاہے جبکہ علاقے کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے کیونکہ قابض حکومت کشمیریوں کو اقتصادی طورپر کمزورکرنے کے لئے ہرقسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔
