پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کا متنازع علاقہ امن کی بحالی کے حوالے سے مودی حکومت کیلئے درد سر بنا ہوا ہے: رپورٹ

جنیوا (پی پی آ ئی)جنیوا میں قائم آریٹی اکیڈمی جنیوا کی طرف سے ’بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘کے عنوان سے جاری کی گئی91صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے جموں و کشمیر کا متنازع علاقہ امن اور سماجی نظم و ضبط کی بحالی کے حوالے سے مودی حکومت کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔کشمیر میڈیا کے مطابق معروف سکالرز لینا ردوان ال دانا اور رازی محمد جابر کی طرف سے کی گئی تحقیق میں کہاگیاہے بھارتی آئین میں دی گئی ضمانتوں اور حقیقت میں عالمی برادری کی طرف سے ملک کی زمینی صورتحال کے مشاہدے میں خاصا فرق نظر آتا ہے۔بھارتی حکومت نے ملک میں ایسے قوانین نافذ کررکھے ہیں جن کا اطلاق صرف جموں وکشمیر میں ہوتا ہے اوروہاں تعینات قابض افواج کو غیر قانونی گرفتاریوں، عدالت کومطلع کئے بغیر جبری حراست، جسمانی تشدد اوراراضی پر قبضے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ جموں اور کشمیر کے علاوہ عالمی برادری نے متنازعہ زرعی قوانین پر بھارتی پنجاب میں کسانوں کی تحریک کا نوٹس لیا اور شمال مشرقی ریاستوں میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو تشویشناک قراردیاہے۔بھارت میں شیڈولڈ ذاتیں خاص طور پر دلت اور اقلیتیں بشمول عیسائی، مسلمان اور سکھ سبھی مودی حکومت کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے اور تقریر کی آزادی پر بھی پابندیاں عائد ہے۔ صحافیوں اور عام شہری کو آزادی اظہار رائے پر گرفتار کرلیاجاتا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے پولیس کی حراست کے دوران کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل، خواتین کی عصمت دری،اقلیتوں پر طاقت کے وحشیانہ استعمال؛ مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر شہریوں سے امتیازی سلوک، خواتین کی اپنے حقوق سے محرومی، ناخواندگی اورغربت اور ریاست کی بڑی تعداد کی بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔