بدین میں پانی کی مصنوعی قلت کے باعث دھان کی زیر کاشت فصل شدید متاثر

غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں معمولی کمی ، اوپن مارکیٹ: ڈالر، یورو اور پاؤنڈ سستے ہوگئے

عالمی منڈی میں تیل سستا، حکومت بھی عوام کو فوری ریلیف دے: پاسبان

ڈی پی او جھنگ کا دورہ گڑھ مہاراجہ دربار حضرت سلطان باھوؒ

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر بطور ثالث دستخط کردئیے

چیئرمین ایس ای سی پی کا دورہ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ڈالر کی بلیک مارکیٹنگ، بینکوں کیخلاف کارروائی کیلئے 15 دسمبر کی ڈیڈ لائن

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے ڈالر کی بلیک مارکیٹنگ میں ملوث بینکوں کے خلاف ایکشن کے لئے 15 دسمبر کی ڈیڈ لائن دے دی۔پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قیصر احمد شیخ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا۔مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی برجیس طاہر نے گورنراسٹیٹ بینک کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک عنایت حسین نے کمیٹی کو بتایا کہ مارکیٹ میں ڈالر کی قلت ہے، بیرون ملک سے پیسے پاکستان نہیں آرہے، مالی وسائل کم ہیں، ایک سے 2 ماہ میں صورت حال بہتر ہوجائے گی۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ گزشتہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18ارب ڈالر تھا، گزشتہ سال ماہانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا، موجودہ مالی سال کے ابتدائی 3 ماہ میں 2.1 ارب ڈالر خسارہ ہوا ہے۔ کمرشل بینکوں نے کسٹمرز سے ڈالر ریٹ زیادہ وصول کیا تھا، جون اور جولائی کے بعد کوئی شکایات نہیں آئی۔ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو شوکاز نوٹس جاری کئے تھے، یہ حقیقت ہے کہ بینکوں نے کسٹمرز کا استحصال کیا، تحقیقات کا عمل تقریباً مکمل ہے، ذمہ دار بینکوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، کارروائی 30 نومبر سے پہلے ہو گی۔خالد مگسی نے اسٹیٹ بینک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک ڈوب رہا ہے، ترقی کہیں نظر نہیں آرہی، لگتا ہے اسٹیٹ بینک کا بینکوں کے ساتھ رویہ نرم ہے، بینکوں کے عمل سے ملک کو نقصان پہنچا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے ڈالر کی بلیک مارکیٹنگ میں ملوث بینکوں کے خلاف ایکشن کے لئے 15 دسمبر کی ڈیڈ لائن دے دی۔