کراچی ڈیفنس سوسائٹی میں نوجوان خاتون نے مبینہ طور پر گولی مار کر خودکشی کر لی

کوٹ غلام محمد میں 5 بچوں کی ماں کرنا کولہی نے رسہ گلے میں ڈالکر خود کشی کر لی

خطرناک مسلح مجرم ٹھٹھہ پولیس سے مقابلے میں گرفتار ،ساتھی فرار ،سیاحوں سے چھینے گئے قیمتی موبائل فون برآمد

اوکاڑہ میں المناک حادثہ ، ٹریکٹر ٹرالی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، 14 سالہ بچہ جاں بحق

وفاقی وزیر صحت کی وزیراعظم سے اہم ملاقات ، صحت کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت

ایس ای سی پی نے ”سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس” فریم ورک متعارف کرا دیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان کا عالمی برادری سے افغان معیشت کی بحالی کیلئے مدد کا مطالبہ

اسلام آباد (پی پی آ ئی)پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کی معیشت کی بحالی میں مدد اور انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے فوری طور پر 4 ارب 20 کروڑ ڈالر فراہم کرے۔میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستانی سفیر منیر اکرم نے کہا کہ ہمیں افغان معیشت اور اس کے بینکنگ سسٹم کو بحال کرنے کی ضرورت ہے، اس کے لیے بیرون ملک رکھے گئے افغانستان کے اثاثوں کو واپس افغانستان کے مالیاتی نظام میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے افغانستان کے لیے 4 ارب 20 کروڑ ڈالر امداد کی اپیل پر اقدامات کرے۔واضح رہے کہ افغان اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کی اپیل براہ راست امریکا کو کی گئی ہے جس نے 2021 میں طالبان کے افغانستان کا اقتدار دوبارہ سنبھالنے کے بعد 7 ارب ڈالر مالیت کے افغان اثاثوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔افغانستان سے معاملات کے لیے عملی حکمت عملی کی تجویز دیتے ہوئے منیر اکرم نے کہا کہ عالمی برادری کی پہلی ترجیح افغانستان میں انسانی بحران کا خاتمہ ہونا چاہیے۔منیر اکرم نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن پاکستان کے لیے اہم ترین مسئلہ ہے، پاکستان 40 برس سے زائد عرصے سے 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر چکا ہے۔منیر اکرم نے امریکا کی جانب سے افغانستان کے اثاثے منجمد کرنے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم ان وسائل کو روکنے کے حق میں تمام قانونی دلائل جانتے ہیں لیکن آپ کو بہرحال افغان معیشت کی تعمیر نو کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں خواتین کے حقوق اور تمام فریقین کی شمولیت پر مبنی حکومت کی تشکیل سے متعلق خدشات پر عالمی برادری کے ساتھ ہے لیکن افغان معاشرے کی حقیقت کو بھی دیکھنا ہوگا کہ افغانستان کیا ہے۔