کراچی (پی پی آئی) گلوبل وارمنگ کے خوفناک اثرات، ماحولیاتی آلودگی میں اضافے اور مستقبل میں مون سون موسم میں تبدیلی کی پیش گوئی کے پیش نظر پاکستان کے ان علاقوں میں بھی ڈینگی وائرس پھیلنے کے خطرات اور خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے جن علاقوں میں یہ وائرس پہلے کبھی نہیں پھیلا تھا۔پی پی آئی کے مطابق ’ڈینگی کے پھیلاؤ پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور پاکستان میں فیوچر اسپیٹیوٹیمپورل شفٹ‘ کے عنوان سے ہونے والی نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے یہ وائرس اب تک محفوظ اونچائی والے علاقوں تک بھی پہنچ جائے گا۔ڈینگی ایک وائرل انفیکشن ہے جو انسانوں میں مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، عام طور پر یہ ان علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں سال کے بیشتر عرصے میں درجہ حرارت گرم رہتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ ہماری تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ڈی ٹی ایس ڈی پورے پاکستان میں پھیل جائیں گے، خاص طور پر ان علاقوں میں بھی جہاں ہم نے اس سے قبل ڈینگی انفیکشن نہیں دیکھا۔ خبردار کیا گیا ہے کہ اسی دوران کراچی، اسلام آباد اور بالاکوٹ اکیسویں صدی کے دوران ڈینگی کے پھیلاؤ کے سنگین خطرات سے دوچار رہیں گے۔تحقیق میں کراچی، حیدر آباد، سیالکوٹ، جہلم، لاہور، اسلام آباد، بالاکوٹ، پشاور، کوہاٹ اور فیصل آباد کو ڈی ٹی ایس ڈی فریکوئنسی کے شکار 10 ہاٹ اسپاٹ شہروں میں شامل کیا گیا ہے۔
Next Post
مظفرآباد میں آزاد جموں وکشمیر انویسٹمنٹ کانفرنس 2022" منعقد
Fri Nov 25 , 2022
مظفر آباد/آزاد کشمیر(پی پی آئی)اس حوالے سے ایوان وزیراعظم مظفرآباد میں شعبہ انڈسٹری،کامرس اور معدنیات کی جانب سے “آزاد جموں وکشمیر انویسٹمنٹ کانفرنس 2022” کے عنوان سے تقریب منعقد کی گئی جس میں سردار تنویر الیاس نے خصوصی شرکت کی. تقریب میں آزاد جموں وکشمیر میں سرمایہ کاری کے فروغ،معیشت […]
