اسلام آباد (پی پی آئی)مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ہم انتخابات کیلئے ہر وقت تیار ہیں، اب انتخابات کی تاریخ پر کوئی ابہام نہیں ہے۔پی پی آئی کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ نوازشریف کی ڈیل کا تاثردرست نہیں ہے،کوئی ڈیل نہیں ہوئی،کیا نوازشریف کے مقدر میں لکھا ہے کہ انہوں نے جلا وطنی کا ٹنی ہے نوازشریف اور ان کے خاندان اور جماعت نے سب سے زیادہ سزائیں کاٹی ہیں،ہم نے 2002 میں نوازشریف کے بغیر بھی الیکشن لڑا تھا۔سعد رفیق کا کہناتھا کہ 2018 میں ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے،سب کا انتخابی نشان بیلٹ پیپر پر ہونا چاہیے، جیل میں موجود سیاستدان کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے،سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر کوئی درخواست آئی تو پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی۔
اے پی آر انرجی نے 102 میگاواٹ میانمار منصوبے کی 2016ء تک توسیع پر دستخط کردیے
سی ایس اے زیڈ662-15: تیل و گیس پائپ لائن نظام صنعتی و شہری حفاظت کے لیے کاؤسیونگ کے نئے پائپ لائن معیار کے لیے مستند رہنما ہدایات فراہم کرتا ہے
جینیسس ہیلتھ کیئر نے صارفی جانچ کو ایشیا بھر میں پھیلا دیا، آغاز 17 نومبر 2015ء سے
یونین پے کارڈ رکھنے والے غیر ملکی باشندوں کے لیے آسٹریلیا میں چینی ویزا ایپلی کیشن ایکسپریس سروس جاری
کانٹی نینٹل متحدہ عرب امارات میں ہونے والے 2019ء اے ایف سی ایشین کپ کا باضابطہ اسپانسر بن گیا
سی ایس اے گروپ نے ڈیوڈ وینسٹائن کو صدر اور سی ای او مقرر کردیا
تازہ ترین خبریں
- April 23, 2026
- April 22, 2026
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
مخدوم شہاب اور علیٰ موسیٰ گیلانی سمیت 3ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد
اسلام آباد(پی پی آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں سابق وزیر مخدوم شہاب الدین، علی موسیٰ گیلانی سمیت 3ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں، عدالت نے تینوں ملزمان پر ایک ایک لاکھ جرمانہ عائد کرتے ہوئے 30روز میں جمع کرانے کا حکم دیدیا۔پی پی آئی کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایفی ڈرین کوٹہ الاٹمنٹ اور مبینہ اسمگلنگ کیس مخدوم شہاب الدین، علی موسیٰ گیلانی، عنصر فاروق کی جانب سے بریت کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں،عدالت نے پیپلزپارٹی کے سابق وزیر مخدوم شہاب سمیت 3ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں ملزمان پر ایک ایک لاکھ جرمانہ عائد کردیا،عدالت نے ملزمان کو 30روز میں جرمانہ جمع کرانے کا حکم دیدیا،جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
مخدوم شہاب اور علیٰ موسیٰ گیلانی سمیت 3ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد
اسلام آباد(پی پی آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں سابق وزیر مخدوم شہاب الدین، علی موسیٰ گیلانی سمیت 3ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں، عدالت نے تینوں ملزمان پر ایک ایک لاکھ جرمانہ عائد کرتے ہوئے 30روز میں جمع کرانے کا حکم دیدیا۔پی پی آئی کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایفی ڈرین کوٹہ الاٹمنٹ اور مبینہ اسمگلنگ کیس مخدوم شہاب الدین، علی موسیٰ گیلانی، عنصر فاروق کی جانب سے بریت کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں،عدالت نے پیپلزپارٹی کے سابق وزیر مخدوم شہاب سمیت 3ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں ملزمان پر ایک ایک لاکھ جرمانہ عائد کردیا،عدالت نے ملزمان کو 30روز میں جرمانہ جمع کرانے کا حکم دیدیا،جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
تلاش کریں
خبریں
اے پی آر انرجی نے 102 میگاواٹ میانمار منصوبے کی 2016ء تک توسیع پر دستخط کردیے
(November 18, 2015)
جیکسن ول، فلوریڈا، 17 نومبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– تیز تر بجلی حل فراہم کرنے والے معروف عالمی ادارے اے پی آر انرجی پی ایل سی (ایل ایس ای: APR) نے آج اعلان کیا ہے کہ میانمار میں اس کے 102 میگاواٹ کا منصوبہ 2016ء تک توسیع پاچکا ہے، جس کی مالیاتی شرائط ابتدائی معاہدے جیسی ہی ہیں۔ کارخانے کے لیے اصل ٹھیکے پر دستخط فروری 2014ء میں ہوئے تھے جو پابندی کے خاتمے کے بعد امریکی ادارے اور حکومت میانمار کے درمیان بجلی کی پیداوار کا پہلا معاہدہ تھا۔ http://photos.prnewswire.com/prnh/20151116/287746 لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20120207/FL48583LOGO کیاؤکسے پاور پلانٹ ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈالے کے جنوب میں واقع ہے جہاں 42 ملین افراد بجلی تک رسائی کے بغیر رہتے ہیں۔ یہ کلیدی تنصیب صرف 90 دن میں قائم کی گئی اور ملک میں تھرمل بجلی کے سب سے بڑے پلانٹس میں سے ایک ہے، جو چھ ملین سے زیادہ افراد کے لیے کافی بجلی فراہم کررہا ہے۔ اوائل ستمبر میں اسے پاور میگزین نے گیس سے چلنے والے سرفہرست پلانٹس کے اعزاز کا فاتح قرار دیا تھا۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر لارنس اینڈرسن نے کہا کہ “ہم جنوب مشرقی ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک کی ترقی کو سہارنے میں مدد دینے کا مسلسل موقع ملنے پر خوش ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں میانمار میں کام کرنے والے پہلے امریکی ادارے کی حیثیت سے ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں میانمار الیکٹرک پاور انٹرپرائز اور قومی حکومت کی صورت میں غیر معمولی کاروباری شراکت دار ملے۔ وہ اس منصوبے کی کایمابی سے مکمل طور پر وابستہ ہیں اور میانمار میں عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔” ادارے کے ایشیا بحر الکاہل خطے کے مینیجنگ ڈائریکٹر کلائیو ٹرٹن نے کہا کہ “میں اس عمل کی تکمیل پر میانمار کی وزارتوں اور عملے کو ان اے پی آر انرجی کی ٹیم کے ساتھ پیشہ ورانہ اور موثر تعاون پر مبارک باد دینا چاہوں گا۔ ہماری نظریں میانمار الیکٹرک پاور انٹرپرائز کے ساتھ مسلسل مثبت تعاون پر مرکوز ہیں۔” اپریل 2014ء میں 82 میگاواٹ کی ابتدائی بجلی صلاحیت کے آغاز کے بعد اے پی آر انرجی نے 2015ء کی پہلی سہ ماہی میں اضافی 20 میگاواٹ کی تنصیب کی تاکہ بہار کے سالانہ خشک موسم کے دوران ہائیڈروپاور کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے۔ نصوبے کے بارے میں ایک مختصر وڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔ اے پی آر انرجی کے بارے میں اے پی آر انرجی دنیا کا معروف ترین فاسٹ-ٹریک موبائل ٹربائن پاور فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ ہمارے تیز، لچک دار اور مکمل خدمات کے حامل بجلی حل صارفین کو قابل بھروسہ بجلی تک فوری رسائی دیتے ہیں جب بھی، جہاں بھی اور جب تک انہیں ضرورت ہو۔ جدید، ایندھن موثر ٹیکنالوجی کو صنعت کے معروف تجربے کے ساتھ ملا کر ہمارے جامع اور آگے بڑھائے جانے کے قابل پلانٹس ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں مارکیٹوں میں دنیا بھر میں شہروں، ملکوں اور صنعتوں کو چلانے میں مدد دے رہے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے www.aprenergy.comپر ادارے کی ویب
سی ایس اے زیڈ662-15: تیل و گیس پائپ لائن نظام صنعتی و شہری حفاظت کے لیے کاؤسیونگ کے نئے پائپ لائن معیار کے لیے مستند رہنما ہدایات فراہم کرتا ہے
(November 18, 2015)
کاؤسیونگ، تائیوان 17 نومبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– معیار بندی، جانچ و تصدیق کی خدمات فراہم کرنے والے معروف عالمی ادارے سی ایس اے گروپ نے اعلان کیا ہے کہ تائیوان کاشسیونگ اکانمی ڈیولپمنٹ بیورو نے کاؤسیونگ شہر کے پائپ لائن مینجمنٹ اسٹینڈرڈ میں سی ایس اے گروپ کے معیار برائے تیل و گیس پائپ لائن نظام (CSA Z662) کا حوالہ دیا ہے۔ یہ معیار شہری زیر زمین پائپ لائن نظام کے عمل کو باقاعدہ بنانے کے لیے بین الاقوامی حفاظتی معیارات اپناتا ہے، تاکہ کاؤسیونگ میں پائپ لائن کے نظام کی حفاظت و تحفظ میں مدد دی جائے۔ سی ایس اے گروپ تیل و گیس کی صنعت کے لیے معیار بندی کا لگ بھگ 50 سال کا تجربہ رکھتا ہے۔ سی ایس اے گروپ کے معیار بندی عمل کے تحت معیارات کو کم از کم ہر پانچ سال بعد ماہر تکنیکی کمیٹیاں تازہ تر کرتی ہیں۔ یہ سی ایس اے زیڈ662 کا ساتواں ایڈیشن ہے، جو تیل و گیس صنعت میں مختلف ماحول میں پیش آنے ووالے حالات کے لیے کینیڈا کا بنیادی معیار ہے۔ نئے ورژن نے نقصان سنبھالنے کے نظاموں پر توجہ، تکمیل انتظامات کےپروگراموں اور انجینئرنگ جائزے کے عمل پر اضافی اور توسیع شدہ حصے شامل کیے ہیں۔ کینیڈا میں سی ایس اے زیڈ662 کی شرائط کا جامع ادراک ملک بھر میں پائپ لائنوں کے نظام کے محفوظ ڈیزائن، تعمیر اور دیکھ بھال میں ایک اہم عنصر ہے۔ سی ایس اے زیڈ 662 کا حوالہ صوبہ جات، علاقوں اور وفاقی حکومت کے قانون میں بھی ہے جو اسے صنعتی ماہرین کے لیے اہم جز بناتا ہے تاکہ وہ شعبے میں حفاظت کو بہتر بنانے، خطرے کو کم کرنے اور پیداوار میں اضافے کے لیے اس معیار کو سمجھیں اور لاگو کریں۔ 2015ء ایڈیشن میں معیاری دستاویز میں ماہرین کے تجزیے کو براہ راست شامل کیا گيا ہے جو اسے پائپ لائن منصوبوں پر کام کرتے ہوئے ایک جامع ذریعہ بنا رہا ہے۔ تائیوان کاؤسیونگ اکانمی ڈیولپمنٹ بیورو کے اعلان کے ساتھ کاؤسیونگ میں تمام پائپ لائن چلانے والوں کو نئے معیار کو تسلیم کرنا ہوگا۔ سی ایس اے گروپ تائیوان دفتر تمام پائپ لائن چلانے والوں کو ایک مخصوص سمپوزیم میں مدعو کررہا ہے، جو پائپ لائن نظام کی تعمیر و دیکھ بھال میں شامل ہر فرد کو پیشکش کررہا ہے کہ وہ مقامی سی ایس اے گروپ ماہرین کے ساتھ تعامل کرے اور سی ایس اے زیڈ 662 کو سمجھنے کے لیے ضروریات میں مدد دے۔ سی ایس اے گروپ پائپ لائن انتظامی معیارات کی تیاری میں اپنے دہائیوں کا تجربہ متعارف کروائے گا اور کاؤسیونگ اور تائیوان بھر میں مقامی پائپ لائن چلانے والوں کو تصدیق فراہم کرے گا۔ پائپ لائن اجزا کے ڈیزائن اور تصدیق میں ابتدائی شمولیت کے ذریعے سی ایس اے گروپ پائپ لائن کے نظام کی مجموعی حفاظت و تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے ایک ہی مقام پر تکنیکی رہنمائی دیتا ہے، اور ممکنہ واقعات کےخطروں کو ختم کرنے یا کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سی ایس اے زیڈ 662 کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے http://shop.csa.ca۔
جینیسس ہیلتھ کیئر نے صارفی جانچ کو ایشیا بھر میں پھیلا دیا، آغاز 17 نومبر 2015ء سے
(November 13, 2015)
ٹوکیو، 12 نومبر 2015ء/کیوڈو جے بی این-ایشیانیٹ — ٹوکیو میں جینیاتی تحقیق و جانچ کا بانی ادارہ جینیسس ہیلتھ کیئر کمپنی اپنی صارف-تک-براہ راست (ڈی ٹی سی) جانچ کو 17 نومبر سے ایشیا تک توسیع دے گا، جو جاپان میں جینی لائف برانڈ کے تحت فروخت ہوتی ہیں۔ جینی لائف کی ای سی سائٹاپنی پہلی پرچم بردار پروڈکٹ “جنیی لائف جینیسس” کے ساتھ کھلے گی، 250 امریکی ڈالرز کی ایک جینیاتی ٹیسٹ کٹ جو 359 امراض/علامات کا جینیاتی تجزیہ پیش کرتی ہے اور صارفین کو طرز زندگی کی مختلف بیماریوں کے حملے کا خطرہ جانچنے کی اجازت دیتی ہے۔ جینی لائف جینیسس17 نومبر سے ہانگکانگ، سنگاپور، تائیوان، ملائیشیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ویت نام اور فلپائن میں آن لائن صارفین کے لیے اور بعد ازاں 2016ء میں بھارت اور چین کے لیے بھی دستیاب ہوگی۔ فروخت شدہ/جانچ کردہ 420,000کٹسکے ساتھ جینیسس ہیلتھ کیئرکی جینی لائف ٹیسٹ کٹسجاپان میں صارفیجینیاتی جانچ کٹس میں مارکیٹ رہنما ہیں۔ جینیسس ہیلتھ کیئرسب سے بڑی جاپانی اور ایشیا مرکزی جینیاتیڈیٹابیسرکھنے کے لیے جانا جاتا ہے جو 11 سال کی ادارہ جاتی تاریخ میں جمع کی گئی ہے۔ بانی بارن خاندان کی جانب سے براہ راست چلائے جانے والے ادارے نے حال ہی میں مٹسوئی اینڈ کمپنی لمیٹڈ اور فاؤنڈرز فنڈ کی جانب سے 6 ملین امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے تاکہ وہ اپنے صارفی کاروبار کو پھیلا سکے۔ اپنے تحقیقی نتائج کے ذریعے جینیسس ہیلتھ کیئرایک ایشیا مرتکزخصوصی چپ تیار کرچکا ہے جو ایشیائی صارفین کے لیے جانچ کے نتائج میں زیادہ بہتر کی سہولت دے گا۔ جینیسس ہیلتھ کیئرکا ایشیا میں توسیع کا فیصلہ جاپان میں بڑے ٹی وی نیٹ ورکس پر جینی لائف کے اشتہارات جاری ہونے کے بعد سامنے آنے والے ردعملپر کیا گیا، اس اشتہار میں معروف جاپانی کامک بک فن کار اوسامو شامل تھے۔ اشتہار کے اجرا سے اب تک ایشیائی ممالک سے جینیسس ہیلتھ کیئر کو بڑھتے ہوئے استفسار کا سامنا تھا جس کی وجہ طرز زندگی سے متعلقہ امراض کے لیے قبل از وقت صحت دیکھ بھال میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے۔ جینی لائف کا جینیسس، جو اس وقت صرف جاپانی میں دستیاب ہے، ایشیائی ممالک کے لیے ابتدائی طور پر انگریزی میں جاری کیا جائے گا۔ صارفین کٹس خرید سکتے اور نتائج آن لائن (پی سی یا موبائل) پر حاصل کرسکتے ہیں۔ صارفین سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نمونے جاپان میں جینیس سہیلتھ کیئر کی لیبارٹری کو بھیجیں جس میں جاپان کے پرائیویسیقوانین صارفین کی جینیاتی معلومات کی حفاظت اور نگہبانی کو یقینی بنائیں گے۔ ایشیائی آفیشل ای سی سائٹبرائے جینی لائف (انگریزی ورژن) http://genelife.asia (تصویر: http://prw.kyodonews.jp/prwfile/release/M103449/201511115491/_prw_OI1fl_2ws9TuKw.png) مصنوعات: جینی لائف جینیسس قیمت: 250 امریکی ڈالرز 359 امراض/علامات -جامع ترین جیانیاتی کٹ 359 امراض/علامات کے ساتھ عالمی سطح پر دستیاب ہے۔ -جینیس سہیلتھ کیئر کا جینی لائف جاپان میں 420,000 سے زیادہ صارفیکٹس فروخت کرچکا ہے۔ – دستیاب جدید ترین ٹیکنالوجی پلیٹ فارم کے ذریعے جانچ کی درستگی کی ضمانت۔ -کوئی تکلیف نہیں! عمل میں گھر پر تھوک حاصل کرنا اور اسے جاپان میں براہ راست چلائی جانے والی لیبارٹری تک بھیجنا شامل
یونین پے کارڈ رکھنے والے غیر ملکی باشندوں کے لیے آسٹریلیا میں چینی ویزا ایپلی کیشن ایکسپریس سروس جاری
(November 13, 2015)
شنگھائی، چین، 11 نومبر 2015/ سن ہوا-ایشیانیٹ — یونین پے چینی ویزا ایپلی کیشن ایکسپریس سروس پیش کرنے والی واحد بین الاقوامی بینک کارڈ ایسوسی ایشن ہے ۔ یونین پے انٹرنیشنل نے 11 نومبر اعلان کیا کہ وہ چین کے ویزا ایپلی کیشن سروس سینٹر کے تعاون سے یونین پے کارڈز (62 سے شروع ہونے والے کارڈ نمبر) رکھنے والے افراد کے لیے آسٹریلیا کے پانچ شہروں، سڈنی، ملبورن، کینبرا، برسبین اور پرتھ میں چینی ویزا ایپلی کیشن سروس سینٹرز پر VIP ایکسپریس سروس پیش کررہا ہے۔ یہ سروس ویزا درخواست پر عمل کے وقت کو کافی کم کرے گی اور یوں آسٹریلیا کے باشندوں کو چین کے سفر میں بڑی سہولت فراہم کرے گی۔ آسٹریلیا میں اس سروس کے اجرا میں دو عوامل نے سہولت دی: 1) آسٹریلیا میں مختلف یونین پے کارڈز جاری ہو چکے ہیں اور مقامی باشندوں میں مقبولیت حاصل کر چکے ہیں، 2) چین اور آسٹریلیا کے درمیان افراد کی سطح پر تبادلہ تواتر کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ اب آسٹریلیا کے یونین پے کارڈ رکھنے والے افراد آسٹریلیا پوسٹ یا بینک آف چائنا (آسٹریلیا) کے جاری کردہ اپنے یونین پے کارڈز پیش کرکے چینی ویزا ایپلی کیشن ایکسپریس سروس کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ وہ ان مراکز پر موجود کتابچوں سے یونین پے کے بارے میں مزید معلومات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ یونین پے انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کائی جیان بو کہتے ہیں کہ یونین پے کارڈز کے اجرا کا سلسلہ تیزی سے بڑھنے کے ساتھ ہم کارڈ رکھنے والے افراد کے حقوق اور کارڈ کے حامل غیر ملکی افراد کی طلب کو پورا کرنے کے لیے متوجہ کرنے کے نظام کو بہتر بنانے سے وابستہ ہیں۔ ایک بین الاقوامی ادائیگی منصوبے کی حیثیت سے یہ یونین پے کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ یہ ویزا درخواست ایکسپریس سروس کارڈ رکھنے والے افراد کے کارڈ استعمال کرنے کے تجربے کو بہتر بنا سکتی ہے اور مزید غیر ملکی دوستوں کو چین کے دورے کی جانب کھینچ سکتی ہے۔ یوں چین اور بیرون ممالک کے درمیان رابطے کو سہارا دیتی ہے۔ اس وقت آسٹریلیا میں متعدد ادارے یونین پے کارڈز کے اجرا کے عمل کو تیز کررہے ہیں۔ مئی میں یونین پے انٹرنیشنل نے چین میں متواتر رابطہ رکھنے والے مقامی افراد کے لیے چینی یوآن اور آسٹریلوی ڈالرز میں لوڈ کیے جانے کے قابل پری پیڈ کارڈ لوڈ اینڈ گو چائنا کے اجرا کے لیے آسٹریلیا پوسٹ کے ساتھ تعاون کیا تھا۔ دونوں اداروں نے آسٹریلیا کے فٹ بال سپر اسٹار ٹم کیہل کو بھی مدعو کیا تھا کہ وہ اس پروڈکٹ کے نئے سفیر بنیں اور اس لازمی چینی سفری کارڈ کے فوائد سے سیاحوں کو آگاہ کریں۔ اب تک چین سے باہر 40 ممالک اور خطوں میں 46 ملین یونین پے کارڈز جاری ہو چکے ہیں۔ یونین پے کارڈز دنیا بھر میں 26 ملین تاجروں اور 19 لاکھ اے ٹی ایمز پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یونین پے سروس سسٹم بہتری کی جانب رواں بھی ہے: ایمرجنسی نقد مدد کی سروس چین اور 220 سے زیادہ بیرونی ممالک
کانٹی نینٹل متحدہ عرب امارات میں ہونے والے 2019ء اے ایف سی ایشین کپ کا باضابطہ اسپانسر بن گیا
(November 13, 2015)
-اسپانسرشپ اے پی اے سی خطے اور مشرق وسطیٰ میں معروف کانٹی نینٹل ٹائر برانڈ کے حوالے سے شعور بڑھانے کے لیے تیار کی گئی -حقوق کے پیکیج میں 2018ء اے ایف سی ویمنز ایشین کپ، روس میں ہونے والے 2018ء فیفا ورلڈ کپ کے لیے ایشیائی کوالیفائرز کا آخری مرحلہ اور 2018ء اے ایف سی انڈر22 چیمپئن شپ بھی شامل ہیں -ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں کانٹی نینٹل دنیا کے مشہور فٹ بال مواقع کی اسپانسرشپ سے 20 سالہ تجربے کو بڑھا سکتا ہے شنگھائی اور ہینوور، جرمنی، 13 نومبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– ٹائر بنانے والے بین الاقوامی ادارے کانٹی نینٹل نے آج اعلان کیا ہے کہ اس کا ٹائر ڈویژن 2019ء اے ایف سی ایشین کپ کا باضابطہ اسپانسر ہوگا جو متحدہ عرب امارات میں کھیلا جائے گا۔ یہ قدم اٹھا کر کانٹی نینٹل اپنی کھیل اسپانسرشپ کی حکمت عملی کو باقاعدہ علاقہ بندی میں مزید آگے بڑھا رہا ہے۔ حقوق کے جامع پیکیج میں اے ایف سی ایشین کپ متحدہ عرب امارات 2019ء میں 12 بہترین ٹیموں کے لیے کوالیفائرز، 2018ء اے ایف سی ویمنز ایشین کپ، روس میں ہونے والے 2018ء فیفا ورلڈ کپ کے لیے ایشیائی کوالیفائرز کا حتمی مرحلہ اور اے ایف سی 2018ء انڈر 22 چیمپئن شپ بھی شامل ہیں، جہاں ٹوکیو کے 2020ء اولمپک گیمز کے لیے کوالیفائنگ مقامات بھی دیے جائیں گے۔ AFC Logo. http://photos.prnasia.com/prnvar/20151112/0861511135LOGO کانٹی نینٹل میں ٹائر ڈویژن کے ذمہ دار ایگزیکٹو بورڈ کے رکن نکولائی سیزر نے کہا کہ “اے ایف سی ایشین کپ اے پی اے سی اور مشرق وسطیٰ میں ایک اہم ترین فٹ بال مقابلہ ہے، جہاں ہماری نظریں آئندہ چند سالوں کے لیے مارکیٹ حصہ بڑھانے پر لگی ہوئی ہیں۔ اس ترقی کو سہارا دینے کے لیے ہم اپنے معروف برانڈ کی ترویج اور اسے کار ڈرائیوروں کے نقطہ نظر سے ایسے مقام پر لانا چاہتے ہیں جہاں یہ کار ٹائر ڈویژن میں ممکنہ متبادل بنے۔ ہم دونوں خطوں میں 2018ء فیفا ورلڈ کپ اور 2020ء ٹوکیو اولمپک گیمز کے لیے کوالیفائرز کی وسیع میڈیا کوریج کی بھی خاص توقع رکھتے ہیں اور اس طرح سمجھ رہے ہیں کہ ہم 2020ء تک اپنے اہم کانٹی نینٹل برانڈ کے لیے شعور میں واضح اضافہ حاصل کریں گے۔” اے ایف سی کے قائم مقام جنرل سیکرٹری داتو ونڈسر جان کے مطابق “کانٹی نینٹل کے ساتھ شراکت داری ایشیا میں فٹ بال کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور کشش کو نمایاں کرتی ہے اور خاص طور پر ہمارے دلچسپ اور کامیاب اہم مقابلوں –ایشین کپ اور ویمنز ایشین کپ اور ساتھ ساتھ انڈر 22 مقابلوں- میں۔ کانٹی نینٹل فٹ بال میں ایک طویل اور نمایاں تاریخ رکھتا ہے اور ہم اے ایف سی کے ساتھ وابستگی پر ان کے شکر گزار ہیں کیونکہ یہ ایشیا میں کھیل اور اپنے کمرشل پورٹ فولیو دونوں کی مستقل ترقی میں ایک اہم سنگ میل کو ظاہر کرتا ہے۔” ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے خصوصی مارکیٹنگ و کمرشل شراکت دار لاگاردرے اسپورٹس نے کانٹی نینٹل اور اے ایف سی کے درمیان معاہدے کروایا۔ کانٹی نینٹل میں ایشیا بحر الکاہل (اے
سی ایس اے گروپ نے ڈیوڈ وینسٹائن کو صدر اور سی ای او مقرر کردیا
(November 12, 2015)
ٹورنٹو، 10 نومبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– سی ایس اے گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے انجمن کے نئے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے ڈیوڈ وینسٹائن کی تقرری کا اعلان کیا ہے، جو 11 نومبر 2015ء سے نافذ العمل ہوگی۔ سی ایس اے گروپ ایک معروف معیار بندی انجمن اور قومی و عالمی معیارات کی جانچ اور تصدیق کی خدمات کا عالمی فراہم کنندہ ہے۔ (تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20151110/285897) سی ایس اے گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئر ڈاکٹر رولینڈ حسین نے کہا کہ “ہم سی ایس اس گروپ میں ڈیوڈ وینسٹائن کا خیرمقدم کرنے پر خوش ہیں۔ وہ ایک مکمل عالمی کاروباری حکمت عملی ساز کے 30 سالہ ثابت شدہ ریکارڈ کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں جن کا ادارہ جاتی ترقی میں تجربہ سی ایس اے گروپ کو آگے بڑھائے گا کیونکہ ہم معیار بندی، اور جانچ و تصدیق میں ایک بین الاقوامی ادارے کی حیثیت سے مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔” صدر اور سی ای او کی حیثیت سے ڈیوڈ وینسٹائن عالمی ادارے کی قیادت اور سمت بندی کے ذمہ دار ہوں گ، جس میں 1800 افراد ملازمین ہیں جو شمالی امریکا، یورپ اور ایشیا میں معیار بندی اور حل، تربیت اور مشاورتی خدمات، اور جانچ و تصدیق کے پورٹ فولیو میں تقریبا35,000 صارفین کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ سی ایس اے گروپ 8,700 سے زیادہ رضاکار اراکین بھی رکھتا ہے جو معیار بندی کے لیے 1,300 سے زیادہ کمیٹیوں کو خدمات دیتے ہیں۔ جناب وینسٹائن حال ہی میں اے بی ایس گروپ کے سی ای او تھے، جہاں وہ ادارے کی ترقی و کامیابی کی قیادت کے ذمہ دار تھے۔ اے بی ایس گروپ 2,400 افراد کے لیے رکنیت کی بنیاد پر تکنیکی خدمات فراہم کرنے والا ادارہ ہے جو 30 سے زیادہ ممالک میں کام رکھتا ہے جہاں تیل و گیس، بجلی، ادویات سازی، ساخت گری اور حکومتی صارفین کو مشاورت، نگرانی اور تصدیق کی خدمات دیتا ہے – اور ان کے لیے محفوظ، قابل بھروسہ، موثر اور قواعد و ضوابط کے مطابق کام کرنا ممکن بناتا ہے۔ اے بی ایس گروپ سے قبل وہ متعدد انتظامی مشاورتی اداروں میں شراکت دار تھے، جن میں ایکسینچر اور اولیور وائیمن شامل ہیں – جو کمرشل، غیر منافع بخش اور حکومتی اداروں کو ترقی و کارکردگی میں بہتری کے چیلنجز میں مدد دے رہے ہیں۔ کئی سالوں میں ان کے صارفین میں معیار بندی میں شامل ادارے، جانچ و تصدیق کی خدمات کے فراہم کنندگان اور کینیڈین ادارے اور کراؤن کارپوریشنز کی بڑی تعداد شامل رہی ہے۔ سی ایس اے گروپ کے صدر و سی ای او ڈیوڈ وینسٹائن نے کہا کہ “مجھے سی ایس اے گروپ میں شمولیت پر خوشی ہے اور اپنے 100 سال مکمل کرنے کے قریب جدت طراز عالمی ادارے کا حصہ بن کر کام کرنے کا موقع ملنے پر فخر ہے۔ میری نظریں سی ایس اے گروپ کے ملازمین اور اراکین کے ساتھ مل کر کام کرنے پر مرکوز ہیں تاکہ ہم دنیا بھر میں اپنے صارفین کو خدمات دے سکیں اور اپنے کاروباری حلوں کو مسلسل پھیلا سکیں۔” ڈیوڈ وینسٹائن

