ہانگ کانگ کے میگا شو میں ایشیائی سورسنگ حل

ساب ملر کے اعلان پر آن ہیوسر-بوش ان بیو کا جواب

53ڈبلیو53 نے نیو یارک میں تھیری ڈیس پونٹ کی ڈیزائن کردہ سیلز گیلری کی رونمائی کردی

آن ہیوسر-بوش ان بیو ساب ملر کے ساتھ دنیا کا پہلا حقیقی عالمی بیئر ادارہ بنے گا

معیارِ موت کو بہتر بنانے کا مطالبہ –سکون آور علاج کو جامع صحت عامہ کا حصہ بنانا حکومتوں کے لیے ناگزیر

شاہ کی واپسی – ٹی سی ایل کی مدد سے چین کے مردوں کی باسکٹ بال ٹیم ایشیائی چیمپئن شپ جیت کر برازیل اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرگئی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلاش کریں

خبریں

کراچی، 16-جون-2026 (پی پی آئی): بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے کی تقسیم کو جانچ پڑتال کا سامنا ہے، جس پر تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ قومی وسائل کا غیر مؤثر استعمال ہے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے جنرل سیکرٹری اقبال ہاشمی کا آج ایک بیان میں کہنا تھا کہ یہ فنڈنگ غربت کی بنیادی وجوہات کو حل نہیں کرتی بلکہ انحصار کو فروغ دیتی ہے۔ پاکستان کو بے روزگاری، صنعتی جمود، اور معاشی سست روی جیسے اہم چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان مسائل کو نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی ناخوشی نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس تناظر میں، امدادی اقدامات کا توسیع کرنا ممکنہ طور پر بہترین حل نہیں ہو سکتا۔ ہاشمی مالی ترجیحات کی دوبارہ جانچ کی حمایت کرتے ہیں، حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فنڈز کو صنعتی ترقی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی حمایت، اور روزگار کی تخلیق میں لگائے۔ وہ زور دیتے ہیں کہ نوجوان، خیرات کے بجائے، باعزت روزگار اور اقتصادی خود کفالت کے خواہاں ہیں۔ نوجوانوں کو مہارتوں، سرمائے، اور کاروباری مواقع سے لیس کر کے، وہ اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکتے ہیں اور قومی معیشت میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ہاشمی پائیدار ترقی اور غربت میں کمی کے وعدہ کرنے والے شعبوں میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اگرچہ امدادی پروگرام مختصر مدتی راحت فراہم کرتے ہیں، اقتصادی خود مختاری کے راستے میں پیداواری صلاحیت اور خود انحصاری کا کلیدی کردار ہے۔ ترقی یافتہ قوموں نے صنعتی کاری اور روزگار کی تخلیق کے ذریعے خوشحالی حاصل کی ہے، نہ کہ مالی امداد پر انحصار کر کے۔

ہانگ کانگ کے میگا شو میں ایشیائی سورسنگ حل

ہانگ کانگ، 9 اکتوبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– میگا شو سمتی مصنوعات، متاثر کن خیالات اور غیر معمولی جدت طرازی کے لیے لازمی مارکیٹ کی حیثیت سے مستحکم ہوچکا ہے اور 20 سے 23 اکتوبر اور 27 سے 29 اکتوبر 2015ء کو بین الاقوامی تجارتی خریداروں کے لیے سات اہم سورسنگ ایام کے دوران 31 ممالک کے 4 ہزار فراہم کنندگان کے لیے 5200 نمائشی اسٹینڈز پیش کرے گا۔ میگا شو کا پہلا حصہ، 20 سے 23 اکتوبر، احتیاط کے ساتھ ایسے وقت میں رکھا گیا ہے جب جنوبی چین کے تجارتی میلے مکمل ہوں، یہ 4540 نمائشی اسٹینڈز اور 31 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے 3387 فراہم کنندگان پر مشتمل ہے جن میں آسٹریلیا، بنگلہ دیش، چین، چیک جمہوریہ، فرانس، گوئٹے مالا، جرمنی، ہانگ کانگ، بھارت، انڈونیشیا، آئرلینڈ، اسرائیل، اٹلی، جاپان، میانمار، ملائیشیا، میکسیکو، نیپال، سری لنکا، نیدرلینڈز، پاکستان، پولینڈ، فلپائن، جنوبی کوریا، اسپین، تائیوان، تھائی لینڈ، ترکی، برطانیہ، امریکا اور ویت نام شامل ہیں۔ مزید برآں بنگلہ دیش، چین، بھارت، انڈونیشیا، جنوبی کوریا، پاکستان، تائیوان، تھائی لینڈ، فلپائن، ویت نام، برطانیہ اور ترکی کے باضابطہ پویلین بھی موجود ہوں گے۔ میگا شو کا دوسرا حصہ، 27 سے 29 اکتوبر، ہانگ کانگ کے خریداری موسم کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور تقریباً 700 نمائشی اسٹینڈز پر بنگلہ دیش، چین، ہانگ کانگ، بھارت، انڈونیشیا، جاپان، جنوبی کوریا، پاکستان، تائیوان، فلپائن، امریکا اور ویت نام کے اضافی 600 اداروں کو دیکھنے کا مزید موقع پیش کرے گا۔ میگا شو حصہ 1 اور میگا شو حصہ 2 میں نمائش کے لیے پیش کردہ متنوع اشیاء کو مصنوعات کے سلسلے میں قسم بند کیا گیا ہے، جن میں سے ہر کسی کو واضح اور متعین مقام دیا گیا ہے۔ میگا شو حصہ 1 میں نو مصنوعات کا سلسلہ ہوگا اور میگا شو پارٹ 2 میں چار مصنوعاتی سلسلے۔ اس سال میں نئی چیز ڈیزائن اسٹوڈیو ہے، جو چین، ہانگ کانگ، تائیوان اور جنوبی کوریا کے باصلاحیت ڈیزائن بنانے والے ادارے پیش کررہا ہے، جو ڈیزائن سے تحریک پانے والی مصنوعات کی نئی نمائش پیش کررہے ہیں – حقیقی، تخلیقی، عملی اور جن کا زور جدت طرازی پر ہو۔ مزید برآں، ایشیا اور باہر کے 1300 سے زیادہ نئے ادارے میگا شو کے ساتھ اس سیزن میں نمائش کررہے ہیں، جو تجارتی خریداروں کو نہ صرف برآمدات سے وابستہ شناسا چہرے، بلکہ نئی مصنوعات اور ہانگ کانگ میں عالمی اداروں کے ساتھ تجارت کا موقع بھی دے گی، جو اب عالمی سورسنگ کا مرکز ہے۔ ہدایات برائے مدیران: میگا شو حصہ 1، 20 سے 23 اکتوبر 2015ء میگا شو حصہ 2، 27 سے 29 اکتوبر 2015ء ہانگ کانگ کنونشن اینڈ ایگزی بیشن سینٹر میگا ایکسپو (ہانگ کانگ) لمیٹڈ ای میل [email protected] ٹیلی فون: 9688 3588 852+ فیکس: 5448 3588 652+ www.mega-show.com سوالات برائے ذرائع ابلاغ مس لنڈا چین ای میل: [email protected] ٹیلی فون: 9688 3588 852+

مزید پڑھیں

ساب ملر کے اعلان پر آن ہیوسر-بوش ان بیو کا جواب

برسلز، 8 اکتوبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– آن ہیوسر-بوش ان بیو (“اے بی ان بیو”) (یورونیکسٹ: ABI) (این وائی ایس ای: BUD) نے ساب ملر پی ایل سی (“ساب ملر”) (ایل ایس ای: SAB) (جے ایس ای: SAB) کی جانب سے جزوی حصص متبادل کے ساتھ 42.15 برطانوی پاؤنڈ نقد فی حصص کی اے بی ان بیو کی تجویز کو مسترد کرنے پر غور کیا ہے۔ اے بی ان بیو حیران ہے کہ ساب ملر کا بورڈ (علاوہ ساب ملر کے سب سے بڑے حصص یافتہ آرٹیا گروپ انکارپوریٹڈ کے ڈائریکٹرز، جنہوں نے مختلف رائے دی) بدستور یہ کہہ رہا ہے کہ تجویز “ساب ملر کا مول اب بھی بہت کم لگا رہی ہے۔” یہ صداقت سے محروم ہے کیونکہ: نقد تجویز 14 ستمبر 2015ء کو ساب ملرکی اختتامی حصص قیمت 34 برطانوی پونڈ پر تقریباً 44 فیصد پریمیم کی نمائندگی کرتی ہے (یہ اے بی ان بیو کی جانب سے نظرثانی شدہ اندازے سے قبل آخری کاروباری دن تھا)؛ اور آلٹریا گروپ انکارپوریٹڈ، جو ساب ملر میں 27 فیصد حصص اور بورڈ میں تین نمائندے رکھتی ہے، نے علی الاعلان تجویز کی حمایت کی اور “ساب ملر کے بورڈ پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر شامل ہو اور تجویز کردہ پیشکش کی شرائط پر اے بی ان بیو کے ساتھ تعمیری انداز میں رضامندی اختیار کرے۔” ساب ملر کے بورڈ نے تجاویز کی انتہائی مشروط فطرت کا بھی حوالہ دیا، جس میں امریکا اور چین میں اہم انضباطی رکاوٹیں شامل ہیں، “جن پر ان بیو نے ساب ملر کو اب تک تسلی نہیں دی”۔ اپنے مشیروں کے ساتھ مل کر اےبی ان بیومنتظمین کے ساتھ متحرک انداز میں کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ کسی بھی معاملے کو حل کیا جا سکے۔ اے بی ان بیواس تجزیے کو ساب ملر اور اس کے مشیران کے سامنے پیش کرنے کی بارہا پیشکش کرچکا ہے۔ ہر مرتبہ ساب ملر کے بورڈ نے شامل ہونے سے انکار کیا۔ کارلوسبریٹو، چیف ایگزیکٹو افسر آن ہیوسر-بوشان بیو نے کہا کہ: “ہماری نیک نیتی کے باوجود ساب ملر کے بورڈ نے ہمارے ساتھ بامعنی انداز میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔ ہماری تجویز ہر کسی کے لیے بہت قدر پیش کرتی ہے۔ اے بی ان بیو کی پیشکش کی عدم موجودگی میں حصص یافتگان 42 سے زیادہ برطانوی پاؤنڈز کی قدر تک پہنچنے میں کتنا وقت لیں گے؟ اگر حصص یافتگانراضی ہوں کہ ہمیں باضابطہ مذاکرات کرنے چاہئیں، تو انہیں اپنی آواز اٹھانی چاہیے اور ساب ملر کے بورڈ کو اس عمل کو باطل کرنے اور موقع ہاتھ سے نکل جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔” اس اعلان میں شامل تمام معاملات سے تعلق رکھنے والے معاملات میں صرف لیزارڈ اے بی ان بیو کے لیے خصوصی طور پر مالیاتی مشیر کا کردار ادا کررہا ہے، اور لیزارڈ کے صارفین کو حفاظت دینے کو حوالے سے اے بی ان بیو کے علاوہ کسی کا ذمہ دار نہیں اور نہ ہوگا، یا اس اعلان میں پیش کردہ معاملات کے حوالے سے مشاورت فراہم کرنے کے حوالے سے بھی۔ ان مقاصد کے لیے “لیزارڈ” کا مطلب

مزید پڑھیں

53ڈبلیو53 نے نیو یارک میں تھیری ڈیس پونٹ کی ڈیزائن کردہ سیلز گیلری کی رونمائی کردی

ژاں نوویل رخ میں واقع وسیع معیاری رہائش گاہوں کے ساتھ مرکز کا افتتاح نیو یارک، 7 اکتوبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– جائیداد و املاک کے بین الاقوامی ادارے بی ہائنز نے تعمیراتی شراکت دار گولڈمین ساکس انوسٹمنٹ گروپ اور سنگاپور میں قائم پونٹیاک لینڈ گروپ کے ساتھ مل کر آج 53ڈبلیو53 کے لیے سیلز گیلری کے شایان شان افتتاحی کا اعلان کیا ہے جو 53 ویسٹ 53 ویں اسٹریٹ پر میوزیم آف ماڈرن آرٹ (ایم او ایم اے) سے منسلک 1,050 فٹ بلند مشترکہ برج میں خوش اسلوبی کے ساتھ تعمیر کی گئی ہے۔ 53ڈبلیو53 کی داخلی تعمیرات نیو یارک میں مقیم تھیری ڈیس پونٹ نے ڈیزائن کی ہیں، یہ 10 ہزار مربع فٹ پر پھیلی ایک سیلز گیلری ہے جو 745 ففتھ ایونیو پر واقع ہے اور ایک مکمل تعمیر شدہ مثالی رہائش گاہ کے ذریعے بے مثال تعمیراتی تناظر پیش کرتی ہے، یہ ایک ایسی عمارت کے اندرون واقع ہے جو سامنے کے رخ پر نقرئی، سیاہ و سنہری دھات کا کام رکتی ہے اور پرٹزکر انعام یافتہ ماہر تعمیراتی ژاں نوویل کی تعمیر کردہ ہے۔ 53W53 credit Hayes Davidson. تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20151007/274997 ہائنز کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈیوڈ پینک نے کہا کہ “53ڈبلیو 53 حالیہ چند سالوں میں تعمیراتی لحاظ سے نیو یارک کی اسکائی لائن میں ہونے سب سے اہم اضافہ ہے۔ ہمیں ایک درخشاں تعمیراتی ٹیم تیار کرنے پر فخر ہے، جس میں دنیا کے دو باصلاحیت ماہرین تعمیرات شامل تھے، تاکہ وہ ایک ایسا محدود اور اپنی نوعیت کا واحد نمونہ تخلیق کریں جو تعمیراتی و تکنیکی لحاظ سے شاہکار ہو، میوزیم آف ماڈرن آرٹ سے خصوصی میل کھاتا ہو، جو دنیا کے معتبر ترین ثقافتی اداروں میں سے ایک ہے۔” جناب نوویل نے عمارت کے لیے بت تراشی سے کشید کردہ ظاہری ڈھانچہ استعمال کیا، جسے ڈائی گرڈ کہتے ہیں، جو عمارت کی زاویہ دار و مخروطی شکل کو مکمل کرتا ہے –یہ قسم منطقہ داری ضروریات کو استعمال کرتے ہوئے ان کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہے۔ ڈیزائن کے نتیجے میں عمارت کے تمام 139 رہائشی یونٹ – ایک خواب گاہ کے حامل سے لے کر مکمل منزل پر مشتمل رہائش گاہیں اور دو منزلہ سائبان رکھنے والے گھروں مع نجی لفٹ تک – اپنی نوعیت کے واحد بن گئے ہیں۔ تہرے گلیز شدہ شیشے رکھنے والی فرش سے چھت تک موجود کھڑکیاں بیرونی شور اور درجہ حرارت میں آنے والی تبدیلی کو کم سے کم اثرانداز ہونے ودیتی ہیں؛ عمودی و افقی ساؤنڈ پروفنگ سماعتی لحاظ سے خلوت فراہم کرتی ہے۔ تمام کھڑکیاں خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ اور موٹر سے چلنے والے شمسی سائبان سے لیس ہیں، جو نمونہ جاتی رہائش کے دیوان خانے میں عملی مظاہرے کے لیے موجود ہیں، ساتھ ہی خواب گاہوں میں اضافی بلیک آؤٹ شیڈز بھی ہیں۔ جناب ڈیس پونٹ نے کہا کہ “53ڈبلیو53 کی تعمیر کے لیے میں نے وہ طریقہ اپنایا کہ ہر رہائش گاہ نجی گھر حاصل کرنے جیسی ہو۔” معیار اور تفصیلات کی معراج پانے والی ہر رہائش گاہ انتہائی نفاست سے تراشے گئے اور فرنیچر کے معیار کے مہاگنی دروازوں کی

مزید پڑھیں

آن ہیوسر-بوش ان بیو ساب ملر کے ساتھ دنیا کا پہلا حقیقی عالمی بیئر ادارہ بنے گا

اتحاد دنیا کے معروف صارفی مصنوعاتی اداروں میں سے ایک بنائے گا بڑے پیمانے پر مکمل جغرافیائی نقش قدم اور برانڈ پورٹ فولیوز نظرثانی شدہ تجویز ساب ملر کے حصص یافتگان کے لیےایک زبردست موقع پیش کرتی ہے؛ نقد تجویز 44 فیصد کا پرکشش پریمیئم اور جزوی حصص متبادل 28 فیصد پریمیئم کی نمائندگی کرتی ہے جنوبی افریقہ اور براعظم افریقہ سے مضبوط وابستگی مستقبل کی ترقی کے لیے اہم محرک دنیا بھر میں صارفین کے لیے مزید انتخاب برسلز، 7 اکتوبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– آن ہیوسر-بوش ان بیو (“اے بی ان بیو”) (یورونیکسٹ: ABI) (این وائی ایس ای: BUD) نے آج ساب ملر پی ایل سی (“ساب ملر”) (ایل ایس ای: SAB) (جے ایس ای: SAB) کے بورڈ کو نظرثانی شدہ تجویز کا اعلان کیا ہے کہ دونوں اداروں کو ملا دیا جائے اور پہلی حقیقی عالمی بیئر کمپنی بنائی جائے۔ نظرثانی شدہ تجویز ساب ملر کے حصص یافتگان کے لیے انتہائی پرکشش نظرثانی شدہ تجویز جو اے بی ان بیو نے آج پیش کی ہے 42.15 برطانوی پاؤنڈز فی حصص نقد میں ساب ملر کو حاصل کرنے کے لیے ہے، جس میں جزوی حصص متبادل ساب ملر کے حصص کے لگ بھگ 41 فیصد کے لیے دستیاب ہے۔ اے بی ان بیو نے نجی طور پر ساب ملر کو پہلے دو تحریری تجاویز پیش کی تھیں، پہلی 38.00 برطانوی پاؤنڈز فی حصص اور دوسری 40.00 برطانوی پاؤنڈز فی حصص نقد۔ اے بی ان بیو مایوس ہے کہ ساب ملر کے بورڈ نے بغیر کسی بامعنی بات کے ان ابتدائی دونوں رابطوں کو مسترد کردیا۔ اے بی ان بیو مانتا ہے کہ یہ نظرثانی شدہ تجویز ساب ملر حصص یافتگان کے لیے انتہائی پرکشش ہونی چاہیے اور یہ ان کے لیے ایک انتہائی زبردست موقع فراہم کرتی ہے۔ نقد تجویز ساب ملر کی 14 ستمبر 2015ء کو مکمل ہونے والی حصص قیمت 29.34 برطانوی پاؤنڈز پر تقریباً 44 فیصد پریمیم دیتی ہے (یہ اے بی ان بیو کی جانب سے نظرثانی شدہ تجویز سے قبل آخری کاروباری دن پر تھی)۔ نظرثانی شدہ تجویز ساب ملر کے عام حصص یافتگان کے لیے ایک زبردست نقد پیشکش ممکن بنانے اور آلٹریا گروپ انکارپوریٹڈ اور بیو کو لمیٹڈ (جو مجموعی طور پر ساب ملر کے تقریباً 41 فیصد حصص رکھتے ہیں کو مسلسل پرکشش سرمایہ کاری فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے، جس کے بارے میں اے بی این بیو مانتا ہے کہ وہ مالیاتی ضروریات کو مطمئن کردے گا۔ اہم بات یہ کہ جزوی حصص متبادل مناسب سرمایہ کاری حاصل کرنا ممکن بناتا ہے اور اس سے زیادہ قیمت پر نقد پیش کرنے کو قائم رکھتا ہے جو دوسری صورت میں اے بی ان بیو پیش کرتا۔ جزوی حصص متبادل اور اس نظرثانی شدہ تجویز کی ابتدائی شرائط کے بارے میں مزید تفصیلات ذیل میں ہیں۔ اے بی ان بیو مانتا ہے کہ 42.15 برطانوی پاؤنڈز فی حصص کی نظرثانی شدہ نقد تجویز ایسی سطح پر ہے جو ساب ملر کے بورڈ کو قبول کرنی چاہیے۔ ایک زبردست موقع اے بی ان بیو اور ساب ملر کا ملاپ ایک حقیقی

مزید پڑھیں

معیارِ موت کو بہتر بنانے کا مطالبہ –سکون آور علاج کو جامع صحت عامہ کا حصہ بنانا حکومتوں کے لیے ناگزیر

 2015ء معیارِ موت اشاریہ کے نتائج کے ردعمل میں عالمی و علاقائی سکون آور علاج انجمنوں کا 10 اکتوبر 2015ء کو عالمی مریض خانہ و سکون آور علاج کے دن سے قبل طریقہ علاج پر ورلڈ ہیلتھ اسمبلی (ڈبلیو ایچ اے) کی قرارداد پر حکومتوں سے عمل کا مطالبہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ چند کم آمدنی والے ممالک نے جدت طرازی اور منصوبوں کے ساتھ رحجان کا فائدہ اٹھایا اور ترقی یافتہ ممالک سے بہتر کارکردگی پیش کی سنگاپور، 6 اکتوبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– لین فاؤنڈیشن نے خطرناک امراض میں مریض کو زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانے کے لیے سکون آور علاج کی ترویج کو تیز تر کرنے اور بہتر بنانے کے لیے حکومتوں اور پالیسی سازوں کو طلب کیا ہے کہ دنیا بھر کی علاقائی و ملکی سکون آور علاج کی انجمنیں فوری قدم اٹھانے کی اہمیت پر زور دیں کیونکہ اکنامک انٹیلی جنس یونٹ کا 2015ء معیارِ موت (کیو او ڈی) اشاریہ ظاہر ہوچاک ہے: سکون آور علاج تک بڑھتی ہوئی رسائی کے لیے قومی سکون آور علاج کی پالیسیاں اور حکمت عملی ضروری ہیں۔ کئی درجہ اول کے ممالک جامع ڈھانچے رکھتے ہیں جو سکون آور علاج کو صحت عامہ کے نظاموں میں شامل کرتی ہے۔ مثال کے طور پر چلی (27 واں) سکون آور علاج کو موجودہ صحت عامہ کی خدمات اور افیونی رسائی کے لیے پالیسی میں شامل کرتا ہے۔ . [2] سکون آور علاج کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ صحت عامہ کے اخراجات میں بچت دیتی ہے۔ حالیہ تحقیق نےظاہر کیا کہسکون آور علاج کو ابتداء میں شامل کرنا کس طرح صحت عامہ کے اخراجات کو کم کرسکتا ہے۔ اس کو متعدد سرفہرست ممالک کی جانب سے اچھی طرح تسلیم کیا گیا ہے۔ گو کہ آمدنی کی سطحیں سکون آور علاج کی دستیابی اور معیار کا مضبوط اشاریہ ہیں، لیکن کم امیر ممالک بھی تیزی سے سکون آور علاج کے معیارات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ منگولیا (28 واں)، پاناما (31 واں) اور یوگینڈا (35 واں) جدت طراو اور انفرادی رہنمائی کے منصوبوں کے ذریعے سکون آور علاج میں آگے بڑھے۔ سکون آور علاج کے لیے طلب چند ممالک میں تیزی سے بڑھے گی جو اس کو پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ ہنگری (41 واں)، یونان (56 واں) اور چین (71 واں) جیسے ممالک محدود رسائی  لیکن سکون آور علاج کے لیے تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب رکھتے ہیں۔ عوامی طلب کو پورا کرنے کے لیے انہیں متحرک سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ شعور اجاگر کرنے اور موت کے بارے میں گفتگو کی حوصلہ افزائی کے لیے مقامی برادری کی شمولیت ناگزیر ہے۔ تائیوان (چھٹے) نے سکون آور علاج کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے مرکزی دھارے کے اور سوشل میڈیا کوکامیابی سے استعمال کیا۔ مندرجہ بالا نتائج کو دیکھتے ہوئے دنیا بھر میں سکون آور علاج کے حامیوں نے پالیسی سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ 2014ء کی عالمی صحت اسمبلی میں سکون آور علاج کے حوالے سے منظور کی گئی ڈبلیو ایچ اے قرارداد پر عملی اقدامات اٹھائے۔ قرارداد معیار زندگی، بہبود،

مزید پڑھیں

شاہ کی واپسی – ٹی سی ایل کی مدد سے چین کے مردوں کی باسکٹ بال ٹیم ایشیائی چیمپئن شپ جیت کر برازیل اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرگئی

شین چین، چین، 6 اکتوبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– 2015ء ایف آئی بی اے ایشیا مردوں کی باسکٹ بال چیمپئن شپ 3 اکتوبر کو چین کے صوبہ ہونان کے شہر چانگ شا میں ہوئی جس میں چین کی ٹیم نے فائنل میں فلپائن کو 78-67 سے شکست دی۔ فائنل 2016ء کے ریو میں ہونے والے اولمپک کھیلوں کے لیے کوالیفائنگ ایونٹ تھا۔ ایشیائی چیمپئن شپ میں جیت مقابلوں کی تاریخ میں چین کی باسکٹ بال ٹیم کا 16 واں اعزاز ہے اور یہ 4 سال بعد ایشیا کی نمایاں ٹیموں میں واپسی کا اعلان ہے۔ چین کے مردوں کی باسکٹ بال کے اہم اسپانسر ٹی سی ایل گروپ نے بھی کامیابی میں حصہ ڈالا۔ طویل المیعاد سرمایہ، ٹیکنالوجی، آلات اور دیگر قسم کی مدد فراہم کرنے کے علاوہ ٹی سی ایل نے “نوجوانوں کو استعمال کرو” کے موضوع پر حالیہ ایشین چیمپئن شپ کے دوران ٹیم کے پرستاروں کے لیے بڑی آن لائن، آف لائن اور انٹرایکٹو تقریبات منعقد کیں۔ تقریبات نے ملک بھر میں پرستاروں میں جوش و جذبہ پیدا کیا اور ٹیم کے ہر رکن کے عزم و ہمت کو مہمیز عطا کی۔ ٹی سی ایل نے پرستاروں کے لیے 8 روزہ شبینہ تقریب کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ ویبومائیکرو-بلاگنگ اور دیگر معروف چینی انٹرنیٹ پلیٹ فارموں پر موضوعاتی مواقع کا سلسلہ شروع کیا، اس تقریب میں پرستار رات گئے تک ٹیم کو داد و تحسین دیتے۔ پرستاروں کو یکجا کرکے ٹی سی ایل نے ٹیم کے لیے ایک زبردست تحریک فراہم کی۔ ٹی سی ایل کی مدد اور پرستاروں کے جوش و جذبے سےبھرپورسہارے سے تحریک پا کر ایشیائی باسکٹ بال چیمپئن شپ کے فائنل کی براہ راست نشریات نے چین کے سب سے بڑے کھیلوں کے قومی چینل سی سی ٹی وی-5 کے لیے سال میں سب سے زیادہ ناظرین اکٹھے کیے۔ عالمی “اسمارٹ” مصنوعات تیار اور انٹرنیٹ ایپلیکیشن خدمات فراہم کرنے والے کی حیثیت سے ٹی سی ایل ایک ایسا برانڈ تشکیل دے کر ادارے کے تاثر کو تبدیل کرنے کا خواہاں ہے جو “جوان، وضع دار اور بین الاقوامی” ہے۔ ٹی سی ایل کا کارپوریٹ فلسفہ “تخلیقی زندگی” اور ہر چیز کو تحریک دیتا جذبہ جو ٹی سی ایل نے خود کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا باسکٹ بال سے بہترین ملاپ رکھتا ہے، کیونکہ انٹرایکٹو ٹیکنالوجی اور کھیل میں بہتر سے بہترین کو پانے کی جستجو تخلیق اور جوش کے یکجا ہونے پر منحصر ہے۔ 2009ء میں چین میں مردوں کی باسکٹ بال ٹیم کے اسپانسر بننے اور 2011ء میں مرکزی اسپانسر کی حیثیت سے ترقی پانے کے بعد ٹی سی ایل 2010ء میں ایشیائی کھیلوں میں مردوں کی باسکٹ بال چیمپئن شپ، اور 2012ء میں ایف آئی بی اے اسٹان کووچ کانٹینینٹل چیمپئنز کپ کی کامیابی میں ٹیم کے شانہ بشانہ رہا۔ یہاں تک کہ چین کی باسکٹ بال ٹیم پر مشکل وقت کے دوران بھی جب کلیدی کھلاڑی ریٹائرہوگئے یا زخمی ہونے کی وجہ سے ایک عرصے کے لیے باہر ہوگئے، ٹی سی ایل ٹیم اور اس کے کھلاڑیوں کو مضبوط سہارا فراہم کرنے سے وابستہ رہا اور ایشیائی چیمپئن شپ

مزید پڑھیں